Friday, July 20, 2018

شاعروں کی لکیریں

شاعروں کی لکیریں
لکیر ایک خط، لائن یا کسی کاغذ وغیرہ پرایک لمبے نشان کو کہتے ہیں جسکے معنی خط کے سائز اور سمت کے لحاظ سے بدل جاتے ہیں۔مگر ہم جن لکیروں کا ذکر کریں گے وہ شعراء کی لکیریں ہیں۔ مطلب یہ کہ شعراء ان لکیروں کوکہاں کہاں استعمال کرکے ، کیسے کیسے معنی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی ہاتھوں کی لکیروں پر نوحہ کناں ہے تو کوئی پتھروں پر لکیریں کھینچ کے بیٹھا ہوا ہے۔ کسی کو ہاتھوں کی لکیروں میں ایک روشن مستقبل نظر آتا ہے تو کوئی ہاتھوں کی لکیروں سے مات کھا گیا ہے۔کوئی مصور کی کھنچی ہوئی لکیروں سے نالاں ہے تو کوئی ان لکیروں میں ہی ڈوبا ہوا ہے۔ غرض یہ کہ مختلف شاعروں نے ان لکیروں کو مختلف رنگوں میں استعمال کیا ہے۔ مثلاََ داغ دہلوی اپنے محبوب کواپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لئے پتھرکی لکیروں کا ذکر کررہے ہیں ۔ 
سمجھو پتھر کی لکیر اسے 

جو ہماری زباں سے نکلا 
عازم کوہلی اپنے ماضی و حال سے تنگ آکر اپنے ہاتھوں پر کھچی ہوئی لکیروں کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ ہاتھوں کی لکیروں کونوید اور امید کے پیرائے میں بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 
ہم لکیریں کرید کر دیکھیں

رنگ لائے گا کیا یہ سال نیا
اسکے برعکس عبیدالرحمان ہاتھوں کی لکیروں کے استعمال سے ناامیدی اور مایوسی کا اظہار کررہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ انہیں کسی اور نے نہیں بلکہ اپنے ہی ہاتھوں کی اندھی لکیر وں نے ہرایا ہے۔ 
کوئی دماغ سے کوئی شریر سے ہارا 

میں اپنے ہاتھ کی اندھی لکیر سے ہارا
جبکہ امیر قزلباش ہاتھوں کی لکیروں کے استعمال سے مایوسی اور امید کے ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگرچہ انہیں اپنے روشن مستبقل کی کوئی امید نہیں لیکن نجومی ابھی بھی اسے امید سحر کی نویدسنا رہے ہیں۔ 
سنا ہے اب بھی مرے ہاتھوں میں 

نجومیوں کو مقدر دکھائی دیتا ہے۔
پروین شاکر نے ہاتھوں کی لکیروں کے استعمال سے منفرد اور جداگانہ معنی دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہ واحد پاکستانی شاعرہ ہیں جنہیں محبوب کی بے وفائی اور ہاتھوں کے لکیروں کے درمیان کوئی تعلق نظر آتاہے۔ 
تو بدلتا ہے تو بے ساختہ مری آنکھیں

اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں
عالم خورشید نے زمین پر لکیر کھینچ کر اسے ضد کے معنی دینے کی کوشش کی ہے۔ انکی زمین پر کھنچی ہوئی لکیر پتھر پر لکیر کے متشابہ ہے۔ 
لکیر کھینچ کے بیٹھی ہے تشنگی میری 

بس اک ضدر ہے کہ دریا یہیں سے نکلے گا
آنس معین کی زندگی کی کتاب میں پہلے صفحے پر محبوب کا نام لکھا ہے جس کے نیچے انہوں نے ایک لکیر کھینچ کر محبوب کے نام کو اور نمایاں کردیا ہے۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ اسکے بعد ساری کتاب خالی پڑی ہے۔ یہاں شاعر نے ایک لکیر سے نمایاں اور واضح کرنے کے معنی اخذ کرنے کی کوشش کی ہے۔
تمہارے نام کے نیچے کھنچی ہوئی ہے لکیر

کتاب زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعد
وسیم بریلوی کو مصور کی کھینچی ہوئی لکیروں پر اعتراض ہے جس نے انکے محبوب کی تصویر کشی کی ہے۔ بقول شاعر مصور جتنی بھی کوشش کرلے اسکے محبوب کی انگڑائی والے لمحات کو اپنی تصویر میں مقید نہیں کرسکتا۔یہاں شاعر اپنے برانگیختہ جذبات کے اظہار کے لئے مصور کی کھچی ہوئی لکیروں پر معترض ہے۔
جسم کی چاہ لکیروں سے ادا کرتا ہے

خاک سمجھے گا مصور تری انگڑائی کو
لیکن اس کے برعکس منیش شکلا کو مصور کی کھنچی ہوئی چند لکیریں اس قدر پسند آئی ہیں کہ وہ ان کی گہرائی میں ڈوبے پڑے ہیں۔ ایسامحسوس ہوتا ہے کہ وسیم بریلوی کی نسبت منیش شکلا نے اپنے محبوب کی تصویر ایک اچھے مصور سے بنوائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان لکیروں کے حسن میں ڈوب گئے ہیں۔
چند لکیریں تو اس درجہ گہری تھیں

دیکھنے والا ڈوب گیا تصویروں میں
خالد معین فارغ لمحات میں بے خیالی میں یونہی لکیریں کھینچتے رہے ۔جب بغور دیکھا تو محبوب کی تصویر بن چکی تھی۔یہاں ٹیڑھی میڑھی لکیروں کوبھی شاعر نے کارآمد گردانا ہے۔
لکیریں کھینچتے رہنے سے بن گئی تصویر

کوئی بھی کام ہو، بے کار تھوڑی ہوتا ہے۔

Thursday, July 12, 2018

لندن سے جیل تک کا سفر

لند ن سے جیل تک کا سفر (دنیا بلاگز پر میرا بلاگ)

احتساب عدالت نے دس ماہ کے مسلسل ٹرائل کے بعد سزا سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، ان کی بیٹی مریم صفدر اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں گناہ گار ٹھہرایا گیا اور بالترتیب دس، سات اور ایک سال قید بامشقت سزائیں سنائی گئیں۔ اسکے ساتھ ساتھ نواز شریف کو آٹھ ملین پاؤنڈ جبکہ مریم صفدر کو دو ملین پانڈ جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔ دونوں باپ بیٹی نے ٹیلی ویژن پر یہ سزا لندن کے اسی اپارٹمنٹ میں بیٹھ کے سنی جس کا کیس تھا جبکہ کیپٹن صفدر پاکستان میں ہی موجود تھے۔ انہیں نیب نے آٹھ جولائی کو راولپنڈی سے ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا۔ نواز شریف اور انکی بیٹی چونکہ پاکستان میں موجود نہیں لہٰذا انکی گرفتاری ممکن نہ ہوپائی۔

ایون فیلڈ کیس کے فیصلے کے بعد یہ بحث شروع ہوئی کہ میاں نواز شریف اور اسکی بیٹی وطن واپس آئیں گے یا نہیں؟ لیکن مخالفین کے تمام تر پروپیگنڈا نے اس وقت دم توڑ دیا جب نواز شریف نے تیرہ جولائی کو شام چھ بجے کے بعد لاہور اترنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد نیب اور پنجاب کی نگران حکومت حرکت میں آگئی ہے کہ سابق وزیراعظم اور اسکی بیٹی کو لاہور ائرپورٹ سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل راولپنڈی کیسے منتقل کیا جائے۔ اس سلسلہ میں افواہیں گردش میں ہیں کہ دونوں باپ بیٹی کو گرفتار کر کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔ یہ افواہ بھی گردش میں ہے کہ نواز شریف اور مریم کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے تاہم متعلقہ حکام اسکی تصدیق سے انکاری ہیں۔ ایک اور افواہ گردش میں ہے کہ لاہور کی انتظامیہ نے نواز شریف کی آمد کے موقع پر لوگوں کو اکٹھا ہونے سے روکنے کے لئے دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے (جو چار سے زائد لوگوں کے اکٹھا ہونے کی ممانعت کرتی ہے )کیونکہ مسلم لیگ ن کی سینئر لیڈر شپ اپنے رہنما کے پرتپاک استقبال کی بھر پور تیاریاں کر رہی ہے۔ لیکن یہ صرف افواہ ہے کیونکہ لاہور کی انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ نہیں کیا بلکہ پنجاب گورنمنٹ نے ایون فیلڈ کیس کا فیصلہ آنے سے قبل ہی 28 جون سے 28 مئی تک2018 کے انتخابات کے سلسلہ میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک کانفرنس میں میڈیا کے نمائندوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ تیرہ جولائی کو لاہور کے انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اپنے لیڈر کا شاندار اور تاریخی استقبال کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ باہر نکلیں گے اور مسلم ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کی سربراہی میں ایک ریلی کی شکل میں اپنے لیڈر کے استقبال کرنے ائرپورٹ جائیں گے۔ ن لیگ کے لئے یہ دن زندگی اور موت کا دن ہوگا۔ کیونکہ 13 جولائی کو نواز شریف کے لئے نکلنے والے لوگوں سے ہی معلوم ہوجائے گا کہ ن لیگ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں کیا کارکردگی دکھائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ اپنی پوری کوشش کرے گی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ باہر نکلیں۔

راولپنڈی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے وقت جن لوگوں نے مزاحمت کی تھی ان کے خلاف بھی مقدمے کا اندراج ہوچکا ہے اور پچاس سے زائد لوگ گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔ ن لیگی لیڈرشپ کو یہ بھی ذہن میں رکھنا پڑے گا کہ اگر ان کا لیڈر لاہور میں اترتا ہے اور کسی طرح ائرپورٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اسکی گرفتاری کے دوران جو کوئی بھی مزاحمت پیدا کرے گا ظاہر ہے اس کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوگا۔ چونکہ چند دن بعد ہی الیکشن ہونے ہیں تو انکی گرفتاری انکے انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہوگی۔

ن لیگ کے لئے نت نئی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور اور اسکے مضافات میں بارہ جولائی سے پندرہ جولائی تک شدید بارشیں متوقع ہیں۔ لاہوریوں کو عام حالات میں نکالنا مشکل ہوتا ہے تو شدید بارشوں میں ان کو ریلی کے لئے نکالنا تو جان جوکھوں کا کام ہوگا۔ دوسری جانب پنجاب گورنمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ تیرہ جولائی کو نواز شریف کی آمد پر کسی قسم کے متوقع جلاؤ گھیراؤ یا انکی گرفتاری میں مزاحمت سے بچنے کے لئے لوگوں کو ائیرپورٹ تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے۔ اس سلسلہ میں راستوں کی بندش کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تین سو سے زائد چھوٹے اور بڑے کنٹینرز کا بندوبست کرلیا ہے۔ لہٰذا بارہ جولائی کی صبح سے ہی ائیرپورٹ کے تمام راستے عام پبلک کے لئے بند کر دیے جائیں گے۔

عام تاثر یہی ہے کہ نیب باقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے باآسانی نواز شریف اور مریم صفدر کو گرفتار کرکے بذریعہ ہیلی کاپٹر اڈیالہ جیل منتقل کر دے گی۔ دونوں باپ بیٹی کو احتساب عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جائے گا کیونکہ عدالت ان کو پہلے ہی مجرم قرار دے چکی ہے۔ لہٰذا گرفتاری کے بعد ان کو سیدھا اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔

برطانوی دور حکومت میں جیل میں قیدیوں کو تین اقسام کی سہولیات دی جاتی تھیں۔ اے، بی اور سی کلاس لیکن پنجاب کی جیلوں میں اب یہ قانون لاگو نہیں۔ اب اے بی اور سی کلاس کو ''بہتر کلاس ''اور ''عام کلاس''سے بدل دیا گیا ہے۔ سابقہ وزیراعظم اور رکن قومی اسمبلی ہونے کی بدولت اگر میاں نوازشریف درخواست دیں تو اڈیالہ جیل میں انکو بہتر کلاس کیٹیگری مہیا کی جائے گی لیکن مریم نواز جو کہ رکن قومی اسمبلی تھی اور نہ ہی اسکے پاس کوئی اور سرکاری عہدہ تھا لہٰذا وہ بہتر کلاس کیٹیگری کی حق دار نہیں ٹھہرتی۔ تاہم مریم صفدر کو بھی اڈیالہ جیل میں ایک صورت میں بہتر کلاس کیٹیگری کی سہولیات مہیا کی جا سکتی ہیں اگر وہ متعلقہ حکام کو درخواست جمع کروائیں اور ساتھ میں ثبوت جمع کروائیں کہ انہوں نے کم از کم چھ لاکھ سالانہ انکم ٹیکس جمع کروایا ہے۔

مریم صفدر کے خاوند کیپٹن ریٹائرڈ صفدر جو کہ پہلے ہی گرفتار ہو کر اڈیالہ جیل منتقل کیے جا چکے ہیں اگر وہ درخواست دیں تو انکو بہتر کلاس کیٹیگری کی سہولیات دی جائیں گی۔ اسکی تین وجوہات ہیں۔ اول کیپٹن صفدر سابقہ گزیٹڈ آرمی افسرہے۔ دوم، آرمی سے سول سروس میں آنے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر تعینات رہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ کیپٹن صفدر سابقہ رکن قومی اسمبلی بھی ہے۔ جیل میں قیدیوں کو بہترین کلاس کیٹیگری میں محدود قسم کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں جن میں کتابیں، اخبارات، 21 انچ ٹیلی ویژن، میز، کرسی، بیڈ، گدا، کپڑے اور اچھا کھانا شامل ہیں۔

Sunday, June 24, 2018

Looty

لوٹے۔
پروین شاکر نے کہا تھا "وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا، بس یہی بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی''۔بقول شاعرہ ایک ''لوٹا''کہیں بھی جاسکتا ہے۔ایک سے دوسرے حاجت خانے میں یا ایک سے دوسری پارٹی میں مگر اسکی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ واپس لوٹ آتا ہے۔اگرچہ لوٹا ہرجائی ہوتا ہے مگر اسکی دل لبھانے والی ادا یہی ہے کہ یہ واپس ضرورآتا ہے۔


دنیا لوٹے کو لاکھ براکہے مگرلوٹے کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے۔ اُتنی ضرورت لوٹے کو ہماری نہیں ہوتی جتنی ہمیں لوٹے کی ہوتی ہے کیونکہ لوٹا نہ ہو تو ہم حاجت خانوں کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔لوٹے سے ہماری راحت ہے اور لوٹا ہی ہماری صفائی ستھرائی کا بہترین ذریعہ بلکہ ضامن ہے ۔ اکثر ایسے بھی حادثات رونما ہوئے ہیں کہ انتہائی ایمرجنسی میں حاجت خانے میں پہنچے ۔دیکھا توپانی ندارد ۔ پیٹ پر ہاتھ رکھے افسردگی کے عالم میں صفائی خانے سے باہر نکلنے ہی لگے تھے کہ اچانک لوٹے پر نظر پڑی تو یہ جان کر راحت محسوس ہوئی کہ لوٹا بھرا ہوا ہے۔ پودوں کو پانی دینے کے لئے اگر پائپ نہ ملے تو لوٹا ، زیر تعمیر گھر میں اینٹوں کو پانی لگانا ہو تو لوٹا، گھر کے باہر گھڑی گاڑی دھونے کے لئے کچھ بھی دستیاب نہ ہو تو لوٹا اور بعض اوقات تو ایسا بھی ہوا ہے کہ نہانے کے لئے اگر کوئی مناسب چیز نہیں ملی تو لوٹے سے سر پر پانی ڈال کر خود کو غلاظتوں سے نجات دلائی ۔ جب ایک حقیر سا لوٹا اتنا کارآمد ہے کہ ہر برے وقت میں کام آتا ہے تواسے برا کیوں کہیں؟ بری تو وہ چیزیں ہیں جو گھر میں ہوتے ہوئے بھی عین وقت پر دستیاب نہیں ہوتیں یا ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں۔جبکہ لوٹے کو ڈھونڈنا ہوتو جھٹ سے حاجت خانے میں جاؤ ، لوٹا حاضر ہے۔



پلیٹ ٹوٹ جائے تو کچرہ اور گلاس ٹوٹ جائے تو کانچ کا ڈھیر بن جاتا ہے مگر لوٹے کا کمال یہ ہے کہ لوٹا ٹوٹ کر بھی لوٹا ہی رہتا ہے ۔ایک اور خوبی جو صرف لوٹے میں ہی نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ لوٹا بعد از مرگ بھی کام آتا ہے۔ لاش کو کفن پہنانے سے پہلے غسل دیا جاتا ہے تو یہی لوٹا ہی استعمال ہوتا ہے اگرچہ یہ لوٹا نیاہوتا ہے مگر لوٹا لوٹا ہی ہوتا ہے چاہے نیا ہو یا پرانا۔لاش کو منوں مٹی تلے دفنانے کے بعد قبر کی مٹی پر پانی ڈالنے کے لئے بھی یہی لوٹا ہی استعمال میں آتا ہے ۔



لوٹے کئی رنگ کے ہوتے ہیں سفید، بھورے، کالے، سبز ، نیلے اور پیلے وغیرہ ۔ رنگ کے لحاظ سے ان میں کوئی تقسیم نہیں پائی جاتی مگر ذات پات کا نظام انکے ہاں بھی رائج ہے ۔لوٹا پلاسٹک کا ہو تو سمجھو کہ غریب کا ہے، پیتل کا ہو تو کسی کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے لیکن سونے کا لوٹا زیادہ تر بادشاہوں کے محلات میں پایا جاتا ہے۔ 



کچھ لوٹے مذہبی بھی ہوتے ہیں۔ تبلیغی جماعت اپنا سامان باندھے کہیں جارہی ہو تو اس میں جو چیزسب سے نمایاں اور چکمدار ہوتی ہے وہ مذہبی لوٹے ہی ہوتے ہیں۔عام طور پرحاجت خانوں کے لوٹوں کو مساجد کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن مذہبی لوٹے کمال ہوشیاری سے تبلیغی جماعت کے ممبران کے سامان کے ساتھ نتھی ہوکر مساجد کے یخ ٹھنڈے کمروں میں استراحت فرماتے پائے گئے ہیں۔معلوم نہیں ان مذہبی لوٹوں میں ایسی کونسی خوبی ہے کہ انکی مساجد کے اندر موجودگی کسی کو بھی ناگوار نہیں گزرتی جبکہ حاجت خانوں کے لوٹوں کو ہمراہ لے کر آپ مساجد کی دہلیز بھی پار نہیں کر سکتے۔



مشرف دور کی ایک بے بنیاد کہانی جو مذہبی لوٹوں کے بارے میں مشہور ہوئی وہ یہ ہے کہ لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ کے پاس ایک مذہبی جماعت کا عظیم الشان اجتماع منعقد ہورہا تھا ۔ ایک دن اچانک سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو امریکہ سے کال آئی کہ انکے سیٹلائیٹ نے لاہور کے قریب بموں کے ایک بہت بڑے زخیرے کا سراغ لگایا ہے ۔پرویز مشرف کووہ تصاویر ای میل بھی کی گئیں جو بظاہر بموں کا ایک بہت بڑا زخیرہ ہی معلوم پڑتا تھا۔ پاکستان آرمی فوری حرکت میں آئی ۔ مطلوبہ جگہ کو جاکر چیک کیا گیا تو حقیقت یہ سامنے آئی کہ وہ بموں کا ڈھیر نہیں بلکہ مذہبی لوٹوں کا زخیرہ تھا جو سیٹلائیٹ سے بموں کا زخیرہ دکھائی دے رہا تھا۔ ان مذہبی لوٹوں کے زخیرے کی تصاویر امریکہ کو ای میل کی گئیں تو انکل سام کی جان میں جان آئی۔ مطلب اگر یہ مذہبی لوٹے اکٹھے ہوجائیں تو امریکہ بہادر کی بھی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔ 



اللہ تعالی نے ہر چیز کا متضاد ضرور پیدا کیا گیا۔مثلا گرمی اور سردی، دن اور رات، صبح اورشام۔ اس حساب سے مذہبی لوٹوں کا متضاد لبرل لوٹے بنتا ہے مگر لوٹوں کی یہ قسم ناپید ہے اسکی وجہ شاید یہ کہ لبرل لوگوں کو لوٹوں کی بجائے نوٹوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ لوٹے رتبے کے لحاظ سے اعلی درجے پر فائز ہوتے ہیں کیونکہ انکو زیادہ تر پیروں ، مرشدوں اور راہبوں کے ہاتھوں میں دیکھا جاتا ہے۔ شاگردوں اور مریدین کے نزدیک یہ لوٹے انتہائی مقدس ہوتے ہیں اسی لئے وہ انہیں دل و جان سے عزیز رکھتے ہیں کہ اگر یہ گم ہوگئے تو بھر پیر ومرشد کے جلال کی تاب نہ لائی جاسکے گی۔ 



لوٹوں کی ایک قسم انسانی روپ میں بھی نظر آتی ہے۔جب کوئی شخص وفاداری تبدیل کر کے کسی دوسری پارٹی ، جماعت یا گروہ میں شمولیت اختیار کر لیتا ہے تو اسے لوٹا کہا جاتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ لوٹا بننے کی صلاحیت ہر شخص میں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے مگر لوٹا بننے کی اصل اور بنیادی شرط وفاداریاں تبدیل کرنا اور اسکا علی الاعلان اظہار کرناہے ۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص وفارداریاں تبدیل کرلے مگر اس تبدیلی کا کھلم کھلا اظہار نہ کرے تو وہ لوٹا کیوں نہیں کہلاتا ؟شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص لوٹے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اسلئے اسے لوٹے کا لقب دینے کی بجائے آستین کا سانپ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ 

اس دھرتی پر اللہ تعالی نے کوئی بھی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ۔جب ہر پیدا کی گئی چیز کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے تو پھر انکی قدر کی جانی چاہیے ناں کہ انکی تذلیل کی جائے یا انہیں حقیر جانا جائے۔ لوٹا بھی ان تخلیقات میں سے ایک ہے۔ اسکی تخلیق کے ان گنت مقاصد ہیں جن میں چند ایک درج بالا سطور میں گنوائے گئے ہیں۔لہذا جنتا سے اپیل ہے کہ لوٹوں پرآوازے کسنے اور انکی تذلیل کرنے کی بجائے انہیں عزت دو۔