Friday, November 16, 2018

Asia Bibi Case and Supreme Court's Decision

آسیہ بی بی کیس اور سپریم کورٹ کا فیصلہ
(بلاگ شائع شدہ دنیا نیوز ٹی وی ویب سائٹ)
قانون کی کتابوں میں اکثر دیکھا ہے کہ انصاف کی دیوی کے ہاتھ میں ترازو ہوتا ہے مگر اسکی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے ایسا اسلئے ہوتا ہے تاکہ انصاف کرنے والا بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب اور امیری غریبی دیکھے بغیر فیصلہ کرے تاکہ کوئی بے گناہ پھانسی پر نہ چڑھ جائے ۔ اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے آئیے دیکھتے ہیں کہ آسیہ بی بی کیس میں ملک کی اعلی عدلیہ نے واقعی میزان درست تولا ہے یا پھر کوئی دباؤ قبول کرتے ہوئے ملزمہ کو رعائیت دی گئی ہے جیسا کہ مذہبی جماعتوں کی طرف سے دعوی کیا جا رہا ہے۔ 
31اکتوبر 2018ء کو جب آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ آیا تو سب سے پہلے ٹویٹر پر فیصلے کا انگریزی میں لکھا ہوا پہلا صفحہ پڑھا ۔ پڑھ کر ایک جھٹکا سا لگا کہ کیا اب سپریم کورٹ کو بھی اپنا ایمان ظاہر کرنے کے لئے اپنے فیصلوں میں کلمہ ء شہادت کا سہارا لینا پڑے گا۔ خیر بھلا ہو چیف جسٹس صاحب کا جنہوں نے آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کا انگریزی اور اردو میں ترجمہ کروا کر سوشل میڈیا پر پھیلانے کی اجازت دی تاکہ مسلمان خود فیصلہ پڑھ کر جانچیں کہ آیا فیصلہ درست ہے یا غلط۔
آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ پڑھنے سے قبل حیران تھا کہ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کی سزا ہافتہ عورت کو سپریم کورٹ نے کیسے باعزت بری کر دیا۔ لیکن جوں جوں فیصلہ پڑھتا گیا تو خیالات بدلتے گئے اور ایک مقام ایسا آیا کہ میں سوچنے لگا کہ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے ایک بے گناہ کو کیسے مجرم ڈکلئیر کر دیا تھا۔ آئیے جانتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے کن بنیادوں پر آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام سے بری کیا ہے ؟
فیصلے کے آغاز میں قرآن و حدیث سے یہ ثابت کیا گیا کہ توہین رسالت کے مرتکب افراد سزائے موت کے حقدار ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس قانون کو ذاتی مفاد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ مشال خان کے کیس میں کیا گیا۔ ایک سابقہ کیس کا حوالا دیا گیا کہ کیسے ایک مسلمان اکرم نامی شخص نے ایوب مسیح کے پلاٹ پر قبضہ کر کے اس پر توہین رسالت کا الزام لگایا۔1960سے تاحال توہین رسالت کے الزام میں 62لوگوں کو مقدمہ کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے۔ اس ساری تمہید کے بعد مقدمہ ہذا کی تفصیل شروع ہوتی ہے۔ یہ مقدمہ زیادہ تر چار سے پانچ لوگوں کے گرد گھومتا ہے۔ شکایت گزار قاری محمد سلام، ملزمہ آسیہ بی بی، گواہان استغاثہ دو بہنیں معافیہ بی بی،اسماء بی بی اور کھیت کا مالک ادریس۔قصہ مختصر یہ کہ ننکانہ صاحب کے گاؤں اٹاں والی میں ملزمہ اور دونوں بہنیں ایک فالسے کے کھیت میں مورخہ 14.06.2009کو فالسہ چن رہی تھیں کہ بات پانی پلانے سے شروع ہوئی اور توہین رسالت تک جا پہنچی۔ چند روز بعد ایک پنچائت اکٹھی کی گئی جہاں بقول استغاثہ ملزمہ نے اقرار جرم کیا (اسی اقرار جرم کا مذہبی جماعتیں شور مچارہی ہیں)۔وقوعہ کے تقریباََ پانچ روز بعد مقدمہ کا اندراج کیا گیا۔ ملزمہ کو سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے مجرم ڈکلیر کیااور یوں کیس سپریم کورٹ پہنچا جہاں اسکی حتمی شنوائی ہوئی۔ اسکے بعد مقدمہ میں جو سقم یاجھول سامنے آئے ان کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جن میں سے چیدہ چیدہ درج ذیل ہیں۔ 
پہلا یہ کہ وقوعہ کے روز کھیت میں پچیس سے چھتیس عورتیں کام کررہی تھی مگر الزام صرف دو نے لگایا۔ دوسرا، مقدمے کا اندارج فورا نہیں کروایا گیا بلکہ پانچ روز کی سوچ بچار کے بعد ہوا۔ تیسرا، مقدمے کی تحریر ایک وکیل نے لکھی جسکا نام شکایت گزار قاری محمد سلام کو یاد نہیں۔ چوتھا، عوامی اجتماع (جرگہ ) جس میں آسیہ بی بی نے عوامی دباؤ کے تحت اقبال جرم کیا، کس جگہ اور کس وقت ہوا استغاثہ کے گواہان کے بیانات میں تضاد ہے۔پانچواں، توہین رسالت کے مقدمہ میں تفتیشی آفیسر کم از کم ایس پی رینک کا ہوتا ہے مگر مقدمہ ہذا کی ابتدائی تمام تفتیش ایک سب انسپکٹر نے کی جوکہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ چھٹا، شکایت گزار اور گواہان استغاثہ نے پانی پلانے کے جھگڑے کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا جسکا احوال دوران سماعت تفتیشی افسراور کھیت کے مالک کے بیانات پر سامنے آیا ۔ساتواں، کھیت کے مالک محمد ادریس کا ایف آئی آر میں کوئی ذکر نہیں مگر ایف آئی آرکے پندرہ روز بعد ایک نئی کہانی گھڑی گئی اورجائے وقوعہ پر کھیت کے مالک کی انٹری ڈالی گئی۔آٹھواں، عوامی اجتماع یعنی جرگہ میں شرکاء کی تعداد اور آسیہ بی بی کو جرگہ میں کون لایا اس بارے تمام گواہان کے بیانات میں تضاد ہے۔نواں، مقدمہ دونوں بہنوں معافیہ اورا سماء بی بی جو جائے وقوعہ پر موجود تھی کی مدعیت میں دینے کی بجائے قاری محمد سلام جو کہ انکی مذہبی استاد کا خاوند ہے اسکی مدعیت میں درج کروایا گیا جبکہ وہ جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھا۔ دسواں، تفتیشی ایس پی نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور نہ ہی گواہان کے بیانات خود قلم بند کیے مزید یہ کہ ابتدائی تفتیش ایک سب انسپکٹر نے کی بعدازاں ایس پی کے سپرد کی گئی۔ گیارہواں، آسیہ بی بی کو کس نے پولیس کے حوالے کیا؟ اس بارے میں بھی گواہان کے بیانات میں واضح تضاد ہے۔ 
چیف جسٹس کے فیصلے کے بعد جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کی طرف سے اتفاقی رائے بھی دی گئی ہے جس میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے مقدمہ میں پائے جانے والے تمام جھولوں کی مزید وضاحت کی ۔ فیصلے کے آخر میں انہوں نے سن 628 ہجری میں حضور اکرم ؐاور عیسائی وفد کے درمیان طے پانے والا ایک معاہدہ میثاق حقوق جسے عیسائی سینٹ کیتھرین کا معاہدہ کہتے ہیں کا بھی ذکر کیاجس میں حضور ؐنے عہد کیاتھا کہ تاقیامت عیسائی اقلیت کا تحفظ کیا جائے گا۔ بدقسمتی ہے کہ اس مقدمہ میں ناموس رسالت کے نظریے کو ذاتی مفاد کے لئے استعما ل کیا گیا اور آپؐ کا وہ عہد جو آپ نے عیسائی وفد سے کیا تھا اسکی پاسداری نہیں کی گئی ۔آخر میں شیکسپئر کے ناول کنگ لئیر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اگرچہ عربی زبان میں لفظ آسیہ کا مطلب گنہگار ہے مگر زیر نظر مقدمہ میں گناہ کرنے سے زیادہ گناہ کا شکار نظر آتی ہے۔ لہذا سزائے موت کو ختم کرتے ہوئے اور شک کا فائدہ دیتے ہوئے آسیہ بی بی کو تمام الزاممات سے بری کر دیا گیا۔