Friday, November 16, 2018

Journalism:a dying profession

میڈیا کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا
پاکستان میں پچھلے چند ہفتوں سے میڈیا مالکان کی طرف سے اپنے ورکرز کو نکالنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ان نکالے گئے میڈیا ورکرز میں ملک کے کئی نامور صحافی ، کالم نگار اور اینکرزبھی شامل ہیں۔ میڈیا ورکرز کا نکالاجانا کئی شکوک و شہبات اور سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ مثلاََکئی نکالے گئے میڈیا ورکرز الزام عائد کر رہے ہیں کہ انکو نکلوانے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے، کچھ پی ٹی آئی کی حکومت پر الزام لگارہے ہیں۔چند ناقدین اسے نئی حکومت کی میڈیا کنٹرول پالیسی قرار دے رہے ہیں۔ الغرض جتنے منہ اتنی ہی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ لیکن حقائق کیا ہیں؟ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
سابقہ حکومتوں میں وزیراعظم اور وزرائے اعلی کو کچھ صوابدیدی اختیارات حاصل تھے جسکی رو سے وہ اپنی مرضی و منشا کے مطابق صوابدیدی فنڈز میں سے رقوم خرچ کر سکتے تھے اور صوابدیدی فنڈز کے اس استعمال پر ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جاسکتی تھی۔ لہذا سابقہ حکومتوں نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اندھا دھند پیسہ میڈیا کو کھلایا ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زیادہ تر ٹی وی چینلز اور خبارات سب اچھا ہے کی گردان الاپتے رہے اورعوام کے ٹیکسوں کا پیسہ خزاں رسیدہ پتوں کی طرح دھڑا دھڑا میڈیا مالکان کی جھولی میں گرتا رہا۔ ان کی دیکھا دیکھی کئی دوسرے بزنس مینوں کی بھی رال ٹپکی جس سے اخبارات اور چینلز کھنبیوں کی طرح بڑھتے چلے گئے۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ جب پیسے کی یہ برسات تھمے گی تو میڈیا کے ورکرز کی روزی روٹی کا بندوبست کہاں سے ہوگا؟
سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کے معاشی قرضے تہہ در تہہ بڑھتے رہے یہاں تک کہ قرضے کی رقم تیس ہزار ارب روپے تک جاپہنچی تاہم میڈیا کے ذریعے عوام کو یہی باور کروایا جاتا رہا کہ پاکستان ترقی کررہا ہے۔ لیکن جب ن لیگ کا دور اقتدار ختم ہوا اور انتخابات کے بعد عمران خان وزیراعظم بنا وہ یہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا کہ خزانہ خالی ہے،تیس ہزار ارب روپے قرضوں کا بوجھ سر پر، بارہ سو ارب روپے بجلی اور تقریبا پانچ سو ارب روپے گیس کے گردشی قرضے منہ چڑا رہے ہیں جبکہ سابقہ حکومت ترقی کے جھوٹے نعرے لگاتی رہی۔ لہذا سب سے پہلا کام جو وزیراعظم نے کیا وہ صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ ہے جس کا سب سے بڑا حصہ میڈیا مالکان کی جھولی میں جاتا تھا۔ حکومت کی طرف سے صوابدیدی فنڈز کا اجرا ء رکا تو میڈیا کی چکا چوند روشنیاں ماند پڑنے لگیں۔ امریکی کہاوت ہے کہ دنیا میں کوئی ڈنر فری نہیں ہوتا۔ لہذا زیادہ تر ٹی وی چینلز اور اخبارات نے حکومت کے خلاف جھوٹی خبریں چلا کر حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس بار انکا پالا عمران خان جیسے ضدی اور ہار نہ ماننے والے شخص سے پڑا ۔وہ بھی اپنی ضد پر اڑ گیا کہ کر لو جو کرنا ہے پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملنے والی۔ چونکہ حکومت کا خزانہ خالی تھا اس لئے سابقہ حکومتو ں کے واجبات بھی ادا نہ کئے جاسکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بادل ناخواستہ میڈیا مالکان کو اپنی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کے لئے میڈیا ورکرز کو نکالنا پڑا جسکی زد میں کچھ نامور رپورٹرز، کالم نگار ، صحافی اور اینکرز بھی آئے۔ 
درج بالا سطور سے معلوم ہوتا ہے کہ میڈیا ورکز کے نکالے جانے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی کی حکومت کا ۔ بلکہ اسکا الزام بھی سابقہ حکومتوں کے سر جاتا ہے جنہوں نے اپنی جھوٹی انا کو قائم رکھنے کے لئے اندھا دھند صوابدیدی فنڈز کا استعمال کیاجس سے میڈیا مالکان کو بھی اپنے کاروبار کی وسعت کے لئے زیادہ سے زیادہ ورکرز رکھنے پڑے۔ اخبارات و رسائل اور ٹی وی چینلز کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ حکومتی اشتہارات ہوتے ہیں۔ اب چونکہ حاکم وقت کو اشتہارات پر تصاویر لگوانے کو شوق ہے اور نہ ہی جھوٹ پر جھوٹ بولنے کا مرض لاحق ہے اس لئے سرکاری اشتہارات کی بارش تھم گئی ہے۔ اس بارش کے تھمنے سے میڈیا کی زمین بنجر ہونا شروع ہوگئی ہے اور جڑی بوٹیوں کے ساتھ ساتھ تناور درخت بھی سوکھنے لگے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب اور چین کے دوروں کے بعد وزیراعظم عمران خان اتنی امداد و قرضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ حکومتی نظم و نسق باآسانی چلایا جا سکے ۔ حالات بہتر ہوتے ہیں وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ میڈیا مالکان کو فوری واجبات کی ادائیگی کی جائے۔ اس کا ایک فائدہ ایک یہ ہوگا کہ میڈیا ورکرز کو نکالے جانے کا سلسلہ رک جائے گاجبکہ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ اور حکومتِ وقت پر تنقید کے نشتر برسنا بھی کم ہوجائیں گے۔ 
اس تمام تر صورتحال کی ذمہ دار اصل پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں ہیں جنہوں نے سرکاری اشتہارات کو سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا۔ صوابدیدی فنڈز بھی اپنی صوابدید کے مطابق استعمال کیے ۔ جن نشتریاتی اداروں نے حکومت کی جھوٹی کارکردگی کا خوب ڈھنڈورا پیٹا ان پر سرکاری تجوریوں کے منہ کھول دیئے گئے تھے جبکہ حمایت میں نہ بولنے والوں کو بلیک میل کیا جاتا رہا جس سے میڈیا کا بزنس بھی متاثر ہوا۔ موجودہ حکومت کا موقف ہے کہ وہ سابقہ حکومتوں کی میڈیا پالیسی کی حامی نہیں۔ اب سرکاری اشتہارات کو بطور سیاسی ہتھیار کے استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ ایک توازن قائم کیا جائے گا۔ موجودہ حکومت کے بقول میڈیا کو سرکاری اشتہارات دینے کے متعلق ایک ایسا لائحہ عمل تیار کیا جارہاہے جس سے سرکاری اشتہارات حکومتی کنٹرول سے نکل جائیں گے اور تمام میڈیا چینلز کو میرٹ کی بنیاد پر اشتہارات ملیں گے۔ اگر حکومتِ وقت اپنے اس وعدے پر عمل درآمد کرتی ہے تو ایک اچھاماحول پروان چڑھے گا ۔ میڈیا چینلز میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوگا۔جھوٹی خبروں کا قلع قمع ہوگا۔ ریٹنگ کی دوڑ اور سب سے پہلے خبر دینے کی پالیسیوں کی بجائے مستند خبروں کی پالیسیاں پروان چڑھیں گی۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعظم کی طرف سے واجبات کی ادائیگی کے اعلان سے میڈیا کی ڈوبتی ناؤ کو سہارا ملے گا۔