Saturday, January 19, 2019

لاہور کی آلودگی اور تدارک

لاہور کی آلودگی اور تدارک

جس طرح مغل بادشاہوں کو عالی شان عمارتوں کی تعمیر کا یارہ تھا، شریف فیملی بالخصوص خادمِ اعلی کے سر پر میٹرو اور اورنج ٹرین کے ساتھ ساتھ لاہور شہر میں جگہ جگہ فلائی اوور اور انڈرپاسز بنوانے کا جنون سوار تھا۔نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج لاہورکا شمار دنیا بھر کے دس آلودہ ترین شہروں میں ہونے لگا ہے۔ بے جا درختوں کو کاٹ کر سڑکیں اور پل تعمیر کیے گئے اور ظلم در ظلم یہ کہ اکثر ایک ہی سڑک کو باربار تعمیر کروایا گیا۔سب سے بڑی زیادتی جو خادمِ اعلی نے لاہوریوں کے ساتھ کی وہ میٹرو بس اور اورنج ٹرین منصوبے ہیں۔ ا ن منصوبوں نے لاہور کو نہ صرف دو حصوں میں تقیسم کردیا ہے بلکہ کنکریٹ کی ایسی دیواریں کھڑی کردی ہیں کہ ان سے سر پھوڑنے کو جی چاہتا ہے۔ پہلے شاہدرہ سے گجومتہ تک ستائیس کلومیٹر لمبے ٹریک کو مکمل کرنے کے لئے کئی سال تک لاہور یوں کو زبردستی دھول اور مٹی کھلائی گئی اور جب یہ پراجیکٹ مکمل ہوا تو خادم اعلی کے عالی شان دماغ نے لاہوریوں کے لئے مزید دھول اور مٹی کا سامان اورنج ٹرین پراجیکٹ شروع کرکے مہیا کردیا۔ یہ پراجیکٹ 2015ء میں شروع ہوا لیکن ن لیگ کا دور حکومت ختم ہونے کے باوجود ابھی بھی نامکمل ہے اور نئی حکومت بھی اس پراجیکٹ کے حق میں نہ ہے تو فی الحال یہ پراجیکٹ مکمل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ان دونوں بڑے منصوبوں کا برا اثر یہ پڑا ہے کہ جہاں جہاں پر اس منصوبے کا وجود ہے وہاں پر اکثر ٹریفک کا رش نظر آتاہے۔ کیا عالی دماغ پائے ہیں ہمارے منصوبہ سازوں نے کہ اپنے کمیشن کی خاطر ایسی روڈ انجینرنگ کی ہے کہ لاہوریوں کو دوہرے مصائب کا سامنا ہے۔ ایک تو ٹریفک جام اور دوسرا ٹریفک جام ہونے کی صورت میں گاڑیوں سے بے پناہ دھوئیں کا اخراج جس سے لوگوں کے نہ صرف نظام تنفس تباہ ہورہے بلکہ نت نئی بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ کجا یہ کہ خادم اعلی لاہورکو درختوں اور پھولوں کا شہر بناتے انہوں نے اسے کنکریٹ کے قبرستان میں بدل دیا ۔ لیکن ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ نئی حکومت کو چاہیے کہ لاہور میں میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں جیسے کسی اور پروجیکٹ پر مکمل پابندی عائد کردی جائے۔ لاہور سے باہر جانب رائے ونڈ وسیع علاقہ دستیاب ہے وہاں اسلام آباد جیسا ایک منی لاہور بسانے کا منصوبہ تشکیل دیا جائے لیکن اسے بسانے سے قبل مکمل منصوبہ بندی کی جائے۔ مثلاََ لاہور شہر کے اہم سرکاری ادارہ جات مثلاََ سول سکریٹریٹ، اہم عدالتیں اور بڑی سبزی منڈیوں کو منی لاہور میں منتقل کردیا جائے تاکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے اور لاہوریوں کو دھویں کی بیماریوں سے نجات ملے۔ دوم، منی لاہور میں درختوں کی بہتات ہو، سوم، روڈ انجینرنگ بہترین ہو ، سڑکیں کشادہ اور سروس روڈ ز دستیاب ہوں۔ چہارم ، ایک مارکیٹ سے دوسری مارکیٹ کا مناسب فاصلہ ہو۔پنجم، منی لاہور میں چنگ چی اور ٹوسڑوک رکشوں پر مکمل پابندی ہو۔ششم ، نئے منی لاہور اور ترجیحاََ پنجاب کے باقی بڑے شہروں میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ پنجاب بھر سے لاہور منتقل ہونے والے بے روزگار خاندانوں کی آمد کا سلسلہ تھم سکے جس سے لاہور کی آبادی کو نہ صرف کنٹرول کیا جاسکے گا بلکہ لاہور میں پہلے سے بسنے والے لوگوں کو صحت و تعلیم کی بہترین سہولتیں مہیا کرنے میں آسانی ہوگی۔اسی طرح اور بھی بہت سے طریقے ہیں جس سے لاہور شہر کی آلودگی کو کم کرنے میں آسانی ہوگی لیکن ان سب کاموں کے لئے نیت کا ٹھیک ہونا شرط ہے ۔