سپریم کورٹ نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کی تقسیم اور ان پر سیاسی لیڈروں کی تصاویر سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب کسی بھی سرکاری اشتہار پر کسی سیاسی لیڈر کی تصویر نہیں لگے گی کیونکہ یہ اشتہارات جاری کرنے کے لئے قومی خزانے سے رقوم خرچ کی جاتی ہیں تاہم قومی خزانہ جو دراصل عوام کا پیسہ ہے کو ذاتی تشہیر کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جب پوچھا گیا کہ حکومت نے پچھے تین ماہ میں کل کتنے اشتہارات جاری کیے ہیں اور ان میں کتنے اشتہارات پر سیاسی لیڈروں کی تصاویر ہیں تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یکم دسمبر سے تین ماہ کے دوران کل89کروڑ کے اشتہارات پرنٹ میڈیا کو جاری کیے گئے جن میں نو عدد اشتہارات پر تصاویر جبکہ 191اشتہارات تصویر کے بغیر جاری کیے گئے۔ حکومتی ترجمان سے مزید ایک سال کے اشتہارات کی تفصیل مانگ لی گئی ہے۔ معزز ججز صاحبان نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کے سال میں تصویر والے اشتہارات جاری کرنا انتخابات سے قبل دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے اور ہم ایسے نہیں ہونے دیں گے کیونکہ جناب چیف جسٹس نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ 2018ء کے الیکشنز 1973ء کے بعد تاریخ کے شفاف ترین انتخابات ہونگے۔ لہذا ہم کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ سرکاری خرچے پر کسی سیاسی لیڈر کی تشہیر کی جائے کیونکہ ہم سب کو ایک جیسا گراؤنڈ دینا چاہتے ہیں تاکہ بعد میں کوئی اعتراز نہ کرے ۔چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ جینوئن اشتہارات پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ پابندی صرف سیاسی لیڈروں والے سرکاری اشتہارات پر ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ سب سے احسن اقدام ہے کیونکہ ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ گراؤنڈ پر کام کرنے کی بجائے حکومتیں اشتہارات میں زندہ تھیں۔ایسے ایسے اشتہارات بھی جاری کیے گئے کہ منصوبے مکمل ہونے تک کے دعوے کر دیے گئے مگر زمینی حقائق یہ تھے کہ منصوبے کی پہلی اینٹ بھی نہیں لگائی گئی تھی۔ مطلب یہ کہ عوام کے پیسوں سے جھوٹے دعوے کر کے عوام کی ہی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی تھی جبکہ لیڈر اپنے تئیں نیلسن مینڈیلا، قائد اعظم ثانی اور معلوم نہیں کیا کیا بنے بیٹھے تھے۔ سپریم کورٹ نے جب دیکھاوے کی چادر اوپر سے ہٹائی ہے تو ان لیڈروں کا دوغلہ پن کھل کے سامنے آگیا ہے۔ سرکاری اشتہاروں میں لیڈروں کی تصاویر لگانا صرف پاکستان کا ہی خاصہ ہے کیونکہ دنیا بھر میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ قومی خزانے کو لیڈروں کی تشہیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہو۔ کچھ عرصہ قبل یہاں آوے کا آوہی بگڑا ہوا تھا۔ خدا بھلا کر ے موجودہ چیف جسٹس کا جنہوں نے آتے ہی میرٹ پر کام کو ترجیح دی ہے۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب اتنہائی سادہ لوح انسان ہیں ۔ میرٹ اورنظم و ضبط کے اس قدر پابند ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان بننے کے بعد ایک روز صبح سویرے اپنی اہلیہ کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں ملبوس ہوکر گھر کے پاس ہی ایک بیکری شاپ پر گئے۔ سودہ سلف لینے کے بعد بل کی ادائیگی کے لئے لائن میں کھڑے ہوگئے۔ کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے نے پہچان کر درخواست کی کہ سرآپ آگے آجائیں۔ اس بات پر چیف جسٹس صاحب کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا اور کرخت لہجے میں بولے میرے آگے جو لوگ کھڑے ہیں کیا انکی کوئی عزت نفس نہیں ہے؟ کیا یہ لوگ ادھار سودہ لینے آئیں ہیں؟ پہلے انکا بل کلئیر کرو ۔ میں اپنی باری پہ آؤں گا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بندہ اپنی روز مرہ زندگی میں دوسروں کے انفرادی حقوق کا اتنا خیال رکھتا ہو وہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ ہر وہ کام کر رہی ہے جس سے عوام کا بھلا ہو۔ چیف جسٹس صاحب کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمیں مداخلت پسند نہیں لیکن جب حکومتی ادارے اپنے فرائض پورے نہیں کریں گے تو ہم مجبوراََ مداخلت کریں گے۔ سرکاری اشتہارات کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ زمینی حقائق کچھ ہیں جبکہ حکومتیں اپنے لیڈروں کی تصاویر کے ساتھ بڑے بڑے اشتہارات فخریہ انداز میں پیش کر کے عوام کو گمراہ کررہی تھیں۔ ایسا ہی ایک اشتہار سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا جس میں درج تھا کہ توانائی کا خاتمہ مبارک ہو۔ جناب چیف جسٹس صاحب نے استفسار کیاکہ کیا لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے؟ تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کچھ فرق تو پڑا ہے۔ فرق پڑنے اور خاتمے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایسے اشتہارات دے کر وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام سے کھلواڑ کر رہی ہیں ۔تاہم سپریم کورٹ نے یہ واضح کردیا ہے کہ اب یہ ڈرامے بازی نہیں چلے گی۔


