Tuesday, April 10, 2018

بلوچستان کی عوام کے بنیادی حقوق کا استحصال اور سپریم کورٹ


بلوچستان کی عوام کے بنیادی حقوق کا استحصال اور سپریم کورٹ

رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اسی تناسب سے اس زمین میں معدنیات اور وسائل بھی بے پناہ پنہاں ہیں مگر بلوچستان کے عوام کی حالت انتہائی دگرگوں ہے۔ عوام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہی ہے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں آج تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں انہوں نے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے استحصال کیا۔ ماضی میں بلوچستان کی حکومتوں نے صوبے کے وسائل کو بروئے کار لانے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل کیا اور ہمیشہ وفاق کی طرف دیکھتی رہیں اور آج تک اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے چند روز قبل سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں وزیراعلی بلوچستان ، وزیرصحت اور وزیرتعلیم کو طلب کیا اور صوبے میں صحت ، تعلیم اور پانی کی صورتحال پر رپورٹ طلب کی۔ وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے بتایا کہ انکی حکومت دو ماہ قبل بنی ہے ۔ مزید یہ کہ انکے پاس وقت کے ساتھ ساتھ وسائل بھی نہ ہیں ۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سابق وزرائے اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک اور ثناء اللہ زہری حاضر ہوکر وضاحت کریں کہ پچھلے چار سالوں میں انکی حقومتوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ۔صحت سے متعلق کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں میڈیکل کالجز معیاری نہیں ۔چیف جسٹس نے بجا فرمایا ہے کیونکہ پاکستان میں سرمایہ ہ داروں نے تعلیم اور صحت کو بھی بزنس کا روپ دے دیا ہے۔ میڈیکل کے طلبہ وطالبات سے بیس سے پچیس لاکھ فیس وصول کی جاتی ہے جو کہ سراسرزیادتی ہے اوربنیادی حقوق کے استحصال کے زمر ے میں آتا ہے۔آئین کا آرٹیکل 199ْؑ اور 184عدلیہ کواختیار دیتا ہے کہ جب عوام کے بنیادی حقوق کا استحصال ہو تو مداخلت کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس نے حکم دیا ہے کہ میڈیکل کے سٹوڈنٹس سے آٹھ لاکھ پچاس ہزار سے زیادہ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ دو کروڑ سٹوڈنٹس سے ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد وصول کی گئی رقم کو ری فنڈ کروایا جائے۔ چیف سیکریٹری بلوچستان نے صوبے میں صحت کی حالت زار کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ مریضوں کو دیکھنے والا کوئی نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب صحت کا شعبہ صوبوں کے پاس آگیا ہے اس لئے وفاق کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے وسائل بروئے کار لائیں۔ آئین کے آرٹیکل 25کے تحت تعلیم ہر بچے کا آئینی حق ہے تاہم بلوچستان میں تعلیم کی حالت یہ ہے کہ تقریباََ دس لاکھ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے ۔تعلیم کی ایسی ابتر حالت پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سابقہ دونوں وزرائے اعلی پیش ہوکر وضاحت کریں کہاانہوں نے تعلیم کے فروغ کے لئے کیا اقدامات اٹھائے تھے؟۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے وزیراعلی بلوچستان ، ججز اور صوبائی وزراء کے ہمراہ سول ہسپتال کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں ینگ ڈاکٹرزنے ایک ماہ سے ہڑتالی کیمپ لگایا ہوا تھا۔ چیف جسٹس نے انکے مطالبات سنے اورینگ ڈاکٹرز کا ہڑتالی کیمپ یہ کہہ کر ختم کروایا کہ انکے جائز مطالبات کی سمری تیار کرکے منظوری کروائیں اور نوٹیفیکیشن جاری کرکے رپورٹ چار یوم کے اندر سپریم کورٹ میں جمع کروائیں۔ ینگ ڈاکٹرز سے مزاکرات کا کام حکومت کا تھا مگر چیف جسٹس کو کرنا پڑا ۔ جب حکومتیں اپنا کام احسن طریقے سے سرانجام نہیں دیں گی اور عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہونگے تو سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے ۔ انہی خیالات کا اظہار چیف جسٹس نے کوئٹہ ہائی کورٹ بار کے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان سے بنیادی حقوق سے متعلق ایک بھی پٹیشن نہیں آئی ۔ کوئی بھی پٹیشن نہ آنے کا مطلب یہ نہیں کہ سب اچھا ہے بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ عوام کو اپنے بنیادی حقوق سے آگاہی نہیں۔لہذا ایسی صورت میں سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا پڑتا ہے۔ کیونکہ عدلیہ کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔