Wednesday, April 18, 2018

افغانستان کے بارے میں امریکی جنزلز کیا غلط سوچتے ہیں؟






امریکی جنرل جان نیکلسن ماضی کی خطرناک غلطیوں کو دہرا رہے ہیں۔ اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اپنے پیش رو کے اسی منترا کو دہرایا کہ امریکی فوج کی نئی حکمت عملی،جس میں فضائیہ کی طاقت اور افغان فوجیوں کوٹریننگ دینے والے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہے، نے افغانستان میں صورت حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر اور مارچ 2016سے نیٹو سپورٹ مشن کے سرابراہ نیکلسن کو اب صورتحال کا بہتر ادراک کر لینا چاہیے۔ 
2014ء میں نیکلسن کے پیش رو، جنرل جان کیمبیل نے کہا تھا کہ اس نے بھی تبدیلی دیکھی ہے۔ جبکہ جنرل جوزف ایف ڈنفورڈ نے2013میں "ہماری کامیابی ناگزیر ہے"کا حوالہ دیا تھا۔اسکے پیش رو جنرل جان ایلن نے یہ اعلان کیا تھا کہ "ہم جیت رہے ہیں، ہم جیت رہے ہیں" 2011 ء میں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے یہ کہا تھا کہ ہم نے طالبان کی پیش قدمی کو روک دیا ہے۔ جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے 2010ء میں کہا تھا کہ کامیابی ابھی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جبکہ جنرل ڈیوڈ میکرنن نے 2009ء میں مشاہدہ کیا تھا کہ امریکہ افغان جنگ ہار نہیں رہا۔ 2001ء میں جب اتحادی فوجوں نے امریکی سربراہی میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹا تب سے امریکی فوجی جنرلز کی جانب سے ایسے بیانات دیئے جاتے رہے ہیں۔ امریکی فوجی کمانڈرز بہتر طور پر جان سکتے ہیں کہ افغانستان میں کیا ہورہا ہے اگر وہ سول ہسپتالوں مثلاََ ننگر ھار ریجنل ہسپتال، میں جائیں اور دیکھیں کہ وہاں کون کون سی سہولیات دی جا رہی ہیں جیسا کہ میں نے دسمبر 2017ء میں کیا۔ میں نے حالیہ فضائی اور ڈرون حملوں کے متاثرین کا انٹرویو کیا جس میں ایک پندرہ سالہ لڑکا بھی تھا جو اپنی فیملی کے ساتھ ایک کار میں جنازے میں شرکت کے لئے جا رہا تھا کہ اچانک ایک افغان گن شپ ہیلی کاپٹر نے فائر کھول دئیے۔ اس حملے میں اسکی خالہ جاں بحق ہوئی اورباقی تین افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ اس لڑکے کے دونوں پاؤں کاٹنے پڑے ۔
"کل جیت ہماری ہوگی " کے نہ ختم ہونے والے دعووں کے بعد توقعات کو کم کرنے کے لئے نیا بیانیہ اپنایا گیا کہ افغانستان سوئٹزرلینڈ نہیں ہے۔ امریکی ملٹری کمانڈرز اوردوسرے آفیشلز نے سالوں ان سے ملتے جلتے ورژن کو اپنائے رکھا۔ نئے امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن نے امریکی افواج کا افغان جنگجوؤں کے ہمراہ کام کرنے کا جواز فراہم کرنے کے لئے انکا تقابلی جائزہ لیا۔ پیٹریاس نے کہا کہ امریکہ افغانستان کو سوئٹزرلینڈبنانے کی کوشش نہیں کررہا۔۔۔بلکہ کچھ ایسا کر رہا ہے جس میں اسی کی بہتری ہے۔ اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے نمائندہ خاص برائے افغانستان سٹافن ڈی مستورانے2009ء کے داغدار انتخابات کے بعد 2010ء کے قابل اعتماد انتخابات کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوئس الیکشن نہیں ہونگے بلکہ یہ افغانستان کے انتخابات ہونگے۔ 
ان تمام حالات کا اثر یہ ہوا کہ 2009ء سے اب تک28291افغان شہری اس جنگ میں لقمہ اجل بنے جبکہ 52366لوگ زخمی ہوئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق زخمیوں کی یہ وہ تعداد ہے جو قابل تصدیق ہے جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان میں سے 70فیصد اموات اور زخمیوں کے ذمہ دار طالبان اور دوسرے باغی گروپ ہیں جبکہ باقیوں کی ذمہ داری افغان اور اتحادی افواج بالخصوص امریکی فوج پر عائد ہوتی ہے۔ انہی میں اسے ایک حالیہ واقعہ قندوز میں رونما ہوا جہاں افغان ائرفورس نے طالبان کے ایک مذہبی اجتماع پر حملہ کیا اور درجنوں سویلین بشمول بچے مار دیے ۔
اگرچہ یہ تعداد مکمل کہانی بیان نہیں کرتی۔
کابل کے رہائشی جن کا میں نے انٹرویوکیا مسلسل اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگلا خود کش دھماکہ انکے پیاروں کی زندگیوں کے چراغ گل کردے گا۔ بہت سے لوگوں نے تازہ ترین دھماکوں کے بعد اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں ہسپتالوں اور مردہ خانوں کے چکر لگانے کے خوف کا اظہار کیا۔ ننگرھار اور ہیرات کے دیہاتی علاقوں کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ آسمان سے ٹپک پڑنے والی موت کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں ۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ فضائی حملے سے قبل کیا وہ دیکھ نہیں سکتے کہ وہاں عورتیں اور بچے ہیں؟ بہت سے لوگوں نے اپنے نقصان کے سرکاری اعتراف کے حصول کی بے سود کوششیں کی۔ہلمند میں ہونے والے حالیہ خود کش دھماکے کے بعد ایک نئی تحریک شروع ہوئی ہے جس نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم شہریوں کی ہلاکتیں روکی جائیں۔ 
امریکی آفیشلز کامیابیوں کے متلاشی ہیں جیساکہ ایک آپریشن میں طالبان کمانڈر قاری حکمت کو مارا گیا جس نے شمالی افغانستان میں ISISکی حمایت کا اعلان کیا تھا مگر امریکہ کے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں نے اسلامک اسٹیٹ کے حمایتی گروپوں کا قلعہ قمعہ نہیں کیا یا طالبان کومصالحت کے لئے آمادہ نہیں کیا۔ دوسری طرف ان حملوں نے طالبان کے جوابی حملوں کو بڑھوتری دی ہے ۔ امریکی آفیشلز یہ مانتے ہیں کہ جنگجوؤں کے جوابی حملوں کازیادہ ترشہری علاقے نشانہ بنتے ہیں۔امریکی آفیشلز اس بات کے بھی معترف ہیں کہ وہ سویلین کی اموات کی الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ تاہم امریکی ملٹری انویسٹی گیشن برائے سویلین اموات عینی شاہدین کی گواہیاں کم ہی ریکارڈ کرتی ہے۔ اگر وہ ایسا کریں تو امریکی جنرل جو افغانستان میں امریکی فوج کے انچارج ہیں وہ یہ بہتر جان سکیں گے کہ عام شہری کیوں مر رہے ہیں۔ 
افغانستان میں امریکی کمان کی عام شہریوں کی نظر میں ساکھ اسی صورت میں بہترہوگی اگر وہ بدمزاج پولیس چیفس، ملیشیا اور دوسرے جنگجو گروپوں سے اپنا اتحاد ختم کرے اور ایسے اقدامات اٹھائے جس سے سویلین اموات میں حقیقی کمی آئے۔ مزید یہ کہ جب سویلین اموات کا واقعات رونما ہوں تومتاثرین کے لئے مناسب معاوضہ اور شفاف تحقیقات کو ممکن بنایا جائے۔یہی وہ اصل تبدیلی ہے جسے افغان شہری خوش آمدید کہیں گے۔ 

اخبار=جاپان ٹوڈے
تاریخ اشاعت = 17اپریل 2018
کالم نگار=پیٹریشیا گوسمین, سینئر ریسرچر، انسانی حقوق واچ، برائے افغانستان۔