سوشل میڈیا کی عدالت
جب سے موبائل فون سستے اور انٹرنیٹ کی سہولت گھر گھر پہنچی ہے پاکستان میں ایک نئی عدلیہ کا وجود عمل میں آیا ہے جسے سوشل میڈیا کی عدالت کہتے ہیں۔ یہ عدالت اپنی ساخت، کام کرنے کے طریقوں حتی کہ اصول وضوابط کے لحاظ سے بھی باقی تمام عدالتوں سے منفرد ہے۔ عام پاکستانی عدالتوں کی ایک خاص ہیت ہوتی ہے۔ اس میں امیدوار ایک مخصوص مقابلے کا امتحان پاس کر کے ججز تعینات ہوتے ہیں تاہم سوشل میڈیا میں ہر وہ انسان جج ہے جسکے ہاتھ میں موبائل ہے یا جسکی رسائی سوشل میڈیا تک ہے۔ عام عدالتوں میں ججزخاص اصول و ضوابط کے پابند ہوتے ہیں اگر کوئی ان قوانین کو توڑتا ہے تو سزا کا حق دار ٹھہرتا ہے تاہم سوشل میڈیا کی عدالت کسی قسم کے اصول وضوابط کی پابند نہیں ہوتی۔ جسکے منہ میں جو آتا ہے وہ بھول یا لکھ دیتا ہے۔ عام عدالتوں میں ملزم کو اپنے دفاع کا پورا پورا موقع دیا جاتا ہے۔ ثبوتوں اور گواہوں کی روشنی میں مخالفین اگر جرم ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو پھر ملزم کو مجرم ڈکلئیرکیا جاتا ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا کی عدالت میں ملزم کو صفائی کا موقع دینا تو درکنار اس سے یہ بھی پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی کہ آیا ملزم کو اپنے اوپر عائد الزام کا پتہ بھی ہے یا نہیں کیونکہ اکثر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ ملزم راتوں رات پوری دنیا میں مجرم مشہور ہوگیا جبکہ خود مجرم کو نہیں پتا کہ اس سے کیا گناہ سرزد ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مجرم ثابت ہوجانے کے بعد کوئی جا کر مجرم کو بتاتا ہے کہ تم سے فلاں جرم سرزد ہوچکا ہے جس پر وہ بیچارا ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ عام عدالتیں جب کسی کو سزا دیتی ہے تو یہ مخصوص مدت کے لئے ہوتی ہے مثلاََ ایک ،پانچ یا دس سال وغیرہ لیکن سوشل میڈیا کی عدالت سزا کی بجائے روگ دیتی ہے ۔ اور یہ روگ دو چار سال کا نہیں بلکہ عمر بھر کا روگ ہوتا جس سے مر کر ہی جان چھوٹ سکتی ہے۔ عام عدالتوں کے ججز کو تنخواہیں ، مراعات اور مخصوص چھٹیاں ملتی ہیں جبکہ سوشل میڈیا کے ججز مختلف کیٹیگریز کے ہوسکتے ہیں ۔ پیڈ ورکر، رضاکار، سیاسی و غیرسیاسی، مذہبی و غیر مذہبی، محب وطن و غداربچے وبوڑھے، مرد اور عورتیں وغیرہ سب شامل ہیں۔ نیز انکے کام کرنے کے مخصوص اوقات کار نہیں ہوتے ۔ یہ جب مرضی اپنی دستیاب سہولت کو استعمال کرتے ہوئے اپنا فیصلہ جاری کرسکتے ہیں۔یہ جب چاہیں جتنی لمبی چھٹی چاہیں انجوائے کرتے ہیں اور جب انکا من کرتا ہے کام پر واپس آجاتے ہیں۔ عام عدالتوں میں پولیس مجرم کو عدالت میں پیش کرتی ہے ، متاثرین کیس عدالت میں دائر کرتے ہیںیاعدالت عالیہ از خود نوٹس لیتی ہے اور کیس کی شنوائی کے بعد ایک مخصوص فیصلہ جاری کیا جاتا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا عدالت میں مجرم کی پیشی ضروری نہیں۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں ججز میں سے کوئی ایک از خود نوٹس لے کر فیس بک، ٹویٹریا دوسری ویب سائٹس پر کیس شیئر کرتا اور پھر کروڑوں کی تعداد میں فیصلے صادر ہوتے ہیں۔عام عدالتوں میں عدم پیشی کی بنا پر مجرم کو اشتہاری قرار دیا جاتا ہے اور اسکا نام ای سی ایل میں ڈالا جاسکتا ہے تاہم سوشل میڈیا عدالت میں ملزم کی پیشی ضروری ہے اور نہ ہی گواہی بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ملزم زندہ ہی نہ ہو مگر پھر بھی اس پر الزامات کی بوچھاڑ کرکے اسکے مجرم ڈکلیئر کر دیا جاتا ہے۔ عام عدالتوں میں مجرم کو ہتھکڑی پہنائی جاتی ہے اور اسکے خلاف استعمال ہونے والے ثبوتوں کی باقاعدہ سائنسی لیب سے جانچ پڑتا ل ہوتی ہے مگر سوشل میڈیا کی عدالت میں ملزم کا ایک تحریری بیان، آڈیوو وڈیوکلپ، تصویر یا کوئی ٹویٹ ہی کافی ہوتی ہے اسے مجرم ثابت کرنے کے لئے۔ عام عدالتوں میں ججز ایک مخصوص علاقے میں ایک مخوص جگہ بیٹھ کر عدالتی کاروائی آگے بڑھاتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا کے ججز علاقائی حدود سے آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ مادرپدر آزادی کے حامل بھی ہوتے ہیں۔ وہ جسکی چاہیں اور جب چاہیں زندگی تباہ کرکے رکھ دیں انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ عام عدالتوں میں مجرم کو اپیل کا حق دیا جاتا ہے تاہم سوشل میڈیا کی عدالت میں ایسا حق کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ ہر انسان ایک مخصوص سوچ اور نظریات کا حامل ہوتا ہے مجرم خواہ لاکھ ثبوت پیش کردے سوشل میڈیا کے ججز اپنی سوچ و نظریات کے مطابق ہی فیصلہ دیتے ہیں۔
