فلسطین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہونے سے قبل بھی عجیب و غریب حرکات کرتا رہا ہے جسکی بدولت مسخرے کے نام سے جانا و پہچانا گیا۔ موصوف کی وجہ شہرت یہ ہے کہ اس نے کوئی بھی قدم سنجیدگی سے نہیں اٹھایا۔ صدارتی انتخابات کے دوران بھی عجیب حرکات کا مرتکب ہوا اور بعد ازاں بھی اپنا مسخرہ پن جاری رکھا۔اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کا فیصلہ بھی اسی مسخرے پن کی ایک کڑی ہے۔ ٹرمپ نے جب یہ فیصلہ کیا تھا تب بھی دنیا بھر سے تنقید کے نشتر چلے تھے کہ امریکہ اس اقدام سے باز رہے کیونکہ اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے لیکن وہ ٹرمپ ہی کیا جو کسی بات کو سنجیدہ لے۔ موصوف اپنے اکھڑ پن پر اڑے رہے اور بالآخر چودہ مئی کو اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنایا اور امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرکے اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ تمام مسلم و غیر مسلم ممالک کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ رسید کیا ۔ سفارت خانے کی اس منتقلی کے خلاف احتجاج کے لئے ساڑھے تین ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی سرحد کے قریب جمع ہوئے جن میں سب سے زیادہ تعداد غزہ میں جمع ہوئی۔ ان مظاہروں کو گریٹ مارچ آف ریٹرن کا نام دیا گیا۔اگرچہ یہ احتجاج پرامن تھا تاہم اسرائیلی فوج نے بربریت کی انتہا کردی ۔نہتے فلسطینی مظاہرین پر ڈرونز سے شیلنگ کی گئی ،پٹرول بم پھینکے گئے، ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی اور پانچ مقامات پر فضائی حملے بھی کیئے گئے جسکی بدولت آٹھ بچوں سمیت 58فلسطینی شہید اور 2700سے زائد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے اموات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اسرائیلی تششد د کے جواب میں فلسطینی مظاہرین نے اسرائیل ، امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے اور اسرائیلی فورسز پر پتھراؤبھی کیا۔ اسرائیلی قتل عام کی بدولت فلسطینی صدر محمود عباس نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکہ سفارت خانے کا افتتاح ٹرمپ کی بیٹی ایوانیکا ٹرمپ نے کیا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وڈیولنک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن اسرائیل کے لئے عظیم دن ہے۔ اب ہم بیت المقدس میں ہیں اور یہیں رہیں گے۔ بظاہر دیکھا جائے تو سفارت خانے کی منتقلی کا یہ عمل امریکہ کی بجائے صرف اور صرف ڈونلڈ ٹرمپ کا اقدام دیکھائی دیتا ہے کیونکہ امریکہ کی یہ تاریخ رہی ہے کہ امریکہ جب بین الاقوامی سطح پر کوئی بڑا قدم اٹھاتا ہے تو اسکے بڑے اتحادی مثلا برطانیہ، فرانس، اوردیگر یورپی ممالک اسکے دائیں بائیں کھڑے ہوتے ہیں۔ سفارت خانے کی منتقلی کے افتتاح کے لئے تمام بڑے ممالک کے سربراہان و نمائندگان کو دعوت نامے ارسال کیے گئے تاہم کسی ایک بھی اہم ملک کے نمائندے نے شرکت نہیں کی جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ قدم اُٹھاتے ہوئے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے تنقید کے نشتر امریکہ کی طرف برسائے جارہے ہیں۔ جنوبی افریقہ اور ترکی نے اپنے سفیروں کو اسرائیل سے واپس بلا لیا ہے ۔ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ امریکہ نے ثالث کی حثیت کھو دی ہے کیونکہ مسئلے کو حل کرنے کی بجائے امریکہ خود مسئلے کا حصہ بن گیا ہے۔ پاکستانی ترجمان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت خانے کی منتقلی کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی قرار دیا۔ فلسطینی صدر نے کہا کہ امریکہ نے امن عمل سبوتاز کر کے مشرق وسطی میں عدم استحکام پیدا کیا ہے اور عرب دنیا کی بے عزتی کی ہے۔حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سلامتی کونسل او ر عرب لیگ نے ہنگامی اجلاسوں کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے یہ وضاحتی نوٹ جاری کیا ہے کہ سفارت خانے کی منتقلی کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ نے اس تنازع میں ایک واضح پوزیشن لے لی ہے بلکہ یہ منتقلی امن عمل کی اہم ضرورت تھی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ بنظر غائر سفارت خانے کی منتقلی ٹرمپ کے صدارتی اقدام کی بجائے تجارتی اقدام زیادہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ ٹرمپ سمیت اسکی کابینہ کے بیشتر ارکان کواس سے قبل حکومت کا کوئی تجربہ نہیں ۔ یہ دراصل تجارت پیشہ لوگوں کا ایک ٹولہ ہے جن کو حکومت سے زیادہ اپنے تجارتی مفادات عزیز ہیں۔ٹرمپ کو بخوبی علم ہے کہ یورپ اور امریکہ میں تجارت پر زیادہ تر صیہونی لابی چھائی ہوئی ہے۔ دوسرا ، ٹرمپ کا داماد بھی یہودی ہے لہذا سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرکے یہودیوں کو خوش کیا جا رہا ہے تاکہ صدارتی ٹرم کے اختتام کے بعد اگر اگلی بار ٹرمپ حکومت نہیں بنا پاتا تو کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ تب تک ٹرمپ اپنے تجارتی تعلقات مستحکم کر چکا ہوگا۔ رہی بات فلسطینیوں کی شہادتوں کی تو انکا خون اتنا ارزاں ہوچکا ہے کہ اب تاقیامت شاید ہی انکو انسانی حقوق میسر آئیں کیونکہ انکا مخالف اسرائیل ہے جو امریکہ و یورپ کا چہیتا اور تجارت کے بادشاہوں کا مسکن ہے۔