جنوبی صوبہ محاذ، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ
29ء اپریل کو مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں عوام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے گیارہ نکاتی منشور پیش کیا ان گیارہ نکات میں سے نواں نقطہ یہ تھا کہ پی ٹی آئی حکومت میں آنے کے بعد جنوبی صوبہ پنجاب کو ایک الگ صوبہ بنائے گی۔ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ کسی سیاسی لیڈر نے جنوبی صوبہ پنجاب کے رہنے والوں کو نیا صوبہ بنا کر دینے کی نوید سنائی ہو۔ کیونکہ اس سے قبل ن لیگ کے رہنماؤں نے بھی جنوبی صوبہ پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا وعدہ کیا ۔ن لیگ کی حکومت ختم ہونے کو ہے تاہم ابھی تک اس وعدے سے متعلق ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا۔ ن لیگ دراصل جنوبی صوبہ پنجاب بنانے کے حق میں نہیں کیونکہ انکو معلوم ہے میاں نوازشریف اگر تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ ن لیگ پنجاب سے واضح اکژیت حاصل کرتی ہے۔ پنجاب دنیا کے 85فیصد ممالک سے بڑا صوبہ ہے جو یہاں سے جیت جاتا ہے وہی وفاق میں بھی حکومت بناتا ہے۔ لہذا ن لیگ پنجاب کو دو یا اس سے زائد حصوں میں تقسیم کر کے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی کیوں مارے گی؟تاہم عمران خان کے وعدوں میں تھوڑی بہت سچائی کی جھلک نظر آتی ہے کیونکہ خان نے کبھی صوبائیت کا پرچار کیا ہے اور نہ ہی کسی ایک صوبے کو بنیاد بنا کر حکومت میں آنے کا پلان بنایا ہے۔9مئی کو عمران خان اور جنوبی صوبہ محاذ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جنوبی صوبہ محاذجوکہ اس وقت 5ایم این ایز اور گیارہ ایم پی ایز پر مشتمل ہے ٹی آئی میں ضم ہوگئی ہے۔ اس معاہدے میںیہ وعدہ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں آنے کے بعد پہلے 100دنوں میں جنوبی صوبہ پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے گی۔ عمران خان نے جنوبی صوبہ پنجاب کے مطالبے کی حمایت کر کے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اول، جنوبی صوبہ پنجاب جو کہ پنجاب کا استحصال زدہ علاقہ ہے ، انکے مطالبے کی حمایت سے آنے والے انتخابات میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک بڑھے گا۔ دوم، اگر پی ٹی آئی حکومت میں آتی ہے اور جنوبی صوبہ پنجاب کو الگ صوبہ بنادیتی ہے تو عمران خان کا نام جنوبی صوبہ پنجاب کی تاریخ میں امر ہوجائے گا۔ سوم، پنجاب کے دو ٹکڑے کرنے سے شریف خاندان کی پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص بادشاہت کا خاتمہ ہوجائیگا۔پنجاب کے دو ٹکڑے ہوجانے کی صورت میں ، شریف خاندان جو کہ ابھی کسی دوسری پارٹی کو خاطر میں نہیں لاتا ، وفاق میں حکومت بنانے کے لئے دوسرے صوبوں کی حمایت کا محتاج ہوگا۔ شریف خاندان کو یہ واضح نظر آرہا ہے کہ انکی بادشاہت کے دن اب ختم ہورہے ہیں یہی وجہ ہے کہ میاں نوازشریف خلائی مخلوق یعنی اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر انگلیاں اٹھارہے ہیں۔ پوری ن لیگ یک زبان دو قالب ہوکر ایک ہی بیانیہ الاپ رہی ہے کہ انکے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ ایک منصوبے کے تحت انکے اراکین اسمبلی کو نااہل کروایا جارہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف عمران خان کو نہ صرف صادق اور امین ڈکلئیر کروایا جا رہا ہے بلکہ اسے حکومت میں لانے کے لئے سپورٹ بھی دی جارہی ہے۔ کیا ن لیگ کے اس بیانیے کہ الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کی جارہی ہے، میں کوئی وزن ہے؟ماضی قریب یعنی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل پاکستان بھر میں ایم پی ایز اور ایم این ایز دھڑا دھڑ ن لیگ میں شمولیت اختیار کر رہے تھے ۔سب کو یہی لگتا تھا کہ ن لیگ کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل سپورٹ حاصل ہے لہذا دیکھا دیکھی لوگ جوک در جوک ن لیگ میں شامل ہوئے ۔نتیجہ یہ نکلا کہ ن لیگ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ بعدازاں عمران خان نے دھاندلی کے الزامات لگا کر دھرنے دیے اور جلسے جلوس نکالے مگر ن لیگ کی حکومت اپنے مدت پوری کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں ایک سابق آرمی چیف پر الزام لگایا ہے کہ اس نے نوازشریف کو حکومت میں لانے کے لئے مدد کی۔ اب چونکہ 2018ء کے عام انتخابات قریب ہیں اب ہوا یہ چل نکلی ہے کہ اگلی حکومت عمران خان کی ہوگی لہذا ایم این ایز اور ایم پی ایز دھڑا دھڑا پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔میاں نوازشریف اب الزام لگا رہے ہیں کہ انتخابات سے قبل دھاندلی کی جارہی ہے اور عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کے مدد حاصل ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمران خان نے 2013ء کے انتخابات کے متعلق ن لیگ کی حکومت کے خلاف دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے جو الزامات لگائے تھے وہ سچے تھے۔اگر عمران خان جھوٹا تھا تو پھر نوازشریف بھی جھوٹ بول رہا ہے۔ اگر عمران خان سچا تھا تو پھر نوازشریف بھی سچ بول رہا ہے۔ قطع نظر اسکے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا، پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ سوائے 1970ء کے عام انتخابات کے ، باقی تمام انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ نے کردار ادا کیا ہے۔ اصغر خان کیس اسکی ایک واضح مثال ہے۔ پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری ادارے ابھی اتنے مضوط نہیں ہوئے کہ اسٹیبلشمنٹ کو نکیل ڈال سکیں۔ مزید یہ کہ جمہوریت کو اتنا نقصان اسٹیبلشمنٹ نے نہیں پہنچایا جتنا خود سیاستدانوں نے پہنچایا ہے۔ لہذا جس عمارت کی بنیاد ہی کمزور ہو اس پر کھڑی کی جانے والی عمارت کی مضبوطی پر ٹھیکیدار کو یقین ہوتا ہے اور نہ ہی مقینوں کو۔