آپ لاہور میں داخل ہوں، سارا دن سڑکوں پر آوارہ گردی کریں، کسی ٹریفک سنگل کی پرواہ کیے بغیر گاڑی چلاتے رہیں۔ دوستوں کو سوشل میڈیاپر لائیو دکھائیں کہ آپ اتنے طاقتور آدمی ہیں کہ کسی ٹریفک پولیس اہلکار نے آپکوروکنے کی جرات نہیں کی۔تو جناب ایسا ممکن ہے۔ لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ چند روز بعد آپ کے گھر کے دروازے پر ایک کورئیر والا آئے ، آپکو ایک کاغذ تھمائے جسے کھولنے پر آپکو ہزار واٹ کا بجلی کا جھٹکا لگے ، آپ گرتے گرتے بچیں کیونکہ آپکی لاہور شہر میں ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑانے کے تصویری ثبوت آپکے سامنے ہیں اور ساتھ میں تحریر ہے کہ من مرضی کرنے پر آپکو اتنے ہزار جرمانہ کیا گیا ہے جو کہ آپ نے دس دن کے اندر ادا کرنا ہے بصورت دیگر آپکے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔یہ سب لاہور میں نافذ کیے گئے ای چلاننگ سسٹم کی بدولت ممکن ہوا ہے؟ تاہم اسکے متعلق کچھ شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں جنم لے چکی ہیں؟آئیے حقائق سے پردہ اٹھانے کی سعی کرتے ہیں۔ شہباز شریف کے دور حکومت میں لاہور میں دہشت گردی کو مانیٹر کرنے کے لئے ایک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جسے سیف سٹی اتھارٹی کا نام دیا گیا اس اتھارٹی نے لاہور شہر میں کم و بیش آٹھ ہزار کیمروں کی تنصیب کی ۔ لیکن کیمروں کی تنصیب کے وقت اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ جب دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا تب تو یہ کیمرے بے کار ہوجائیں گے لہذا ان کیمروں میں سے کئی ہزار کیمروں کو ٹریفک سگنلز سے منسلک کر دیا گیا تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی حرکات و سکنات کو نوٹ کیا جاسکے۔ اگرچہ لاہور میں اس وقت روزانہ لاکھوں کی تعداد میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں تاہم سیف سٹی اتھارٹی کے ایک دن میں جاری کردہ ای چالانوں کی زیادہ سے زیادہ حد صرف پچاس ہزار ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ تاحال اتنی تعداد میں کیمروں کی تنصیب نہیں کی جاسکی جسکا منصوبہ بنایا گیا تھا۔دوم، عام طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ای چالاننگ پورے لاہور شہر میں ہورہی ہے تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔ فی الحال لاہور کے صرف نوے عدد ٹریفک اشارے ایسے ہیں جن پر ای چالاننگ ہورہی ہے اور جہاں ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو اشارے کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑی کو روکنے کی ممانعت کردی گئی ہے۔ سوم، عام تاثر یہ بھی ہے کہ ٹریفک اشارہ جیسے ہی سبز سے پیلا ہوا تو تصویرلے لی جائے گی۔ اسی خوف کی وجہ سے لوگ اشارہ بند ہونے پر جلدی جلدی گاڑی روکنے کی کوشش کرتے ہیں جسکی بدولت پیچھے سے تیزی سے آنے والی گاڑی سے ٹکر ہوجاتی ہے جو مالی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ای چالاننگ کا سسٹم اگرچہ خود کار طریقے سے کام کرتا ہے۔لیکن جب اشارہ سبز سے پیلا اور بالآخر سرخ ہوجاتا ہے تو تب جو گاڑی اشارے کی خلاف ورزی کرتی ہے ، کیمرہ اس گاڑی بالخصوص گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصویر لے کر سسٹم کو بھیجتاہے۔سسٹم ایک عدد ای چالان گاڑی کے مالک کے نام تیار کرکے اسکا پرنٹ نکال دیتا ہے جسے فوری طور پر متعلقہ پتے پر بذریعہ کورئیر ارسال کر دیا جاتا ہے جسے دس روز کے اندر اندر جمع کروانا ضروری ہوتا ہے بصورت دیگر کئی اقسام کی قانونی چارہ جوئیاں عمل میں لائی جاسکتی ہیں مثلاََ ٹریفک پولیس گاڑی کو قبضہ میں لے سکتی ہے جو بقایا جات اور جرمانے کی رقم کی ادائیگی کے ثبوت فراہم کرنے کے بعد گاڑی مالک کے حوالے کرے گی، دوم،اگر آپ ای چالان کو بروقت پنجاب بینک کی برانچوں میں ادا نہیں کرتے تو چالان کی یہ رقم آپ سے اس وقت وصول کی جائے گی جب آپ گاڑی کے ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی کریں گے۔ سوم، اگر آپ ای چالان کی رقم بھی ادا نہیں کرتے اور گاڑی کے ٹوکن کی ادائیگی بھی نہیں کرتے تو محکمہ ایکسائز کی ٹیمیں جو ہر روز کہیں نہ کہیں ناکے لگا کر گاڑیوں کے کاغذات چیک کررہی ہوتی ہیں انکے ہتھے چڑھ جائیں گے۔ تب ممکن ہے آپ اپنی فیملی کے ساتھ ہوں مگر ای چالان اور ٹوکن ٹیکس ادا نہ کرکے جس طرح آپ نے ملکی قوانین کا مذاق اڑایا اسی طرح محکمہ ایکسائز کی ٹیمیں یہ نہیں دیکھیں گی کہ آپکے ہمراہ آپکی فیملی ہے آپکی گاڑی فوری قبضہ میں لے لی جائے گی اور آپکو فیملی کے سامنے شرمند ہ ہونا پڑیگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ درج بالا تمام صورتحال سے بچ جائیں لیکن اب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی اپنے شکنجے پوری طرح کس لئے ہیں۔جب کبھی آپ گاڑی کو فروخت کرنا چاہیں گے تو اس وقت تک مالکانہ حقوق کی منتقلی ممکن نہیں ہوگی جب تک آپ کے ذمہ ای چالان کی واجب الادا رقم سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہوجاتی۔فی الحال ای چالاننگ کا یہ سسٹم صرف ٹریفک اشاروں کی خلاف ورزی پر قانونی کاروائی عمل میں لارہا ہے لیکن مستقبل میں دوسری ٹریفک وائلیشنز پر بھی کاروائی ہوگی۔ بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ قانون اپنے شکنجے کس رہا ہے۔
