Wednesday, October 3, 2018

تبدیلی کی چیخیں


تبدیلی کی چیخیں

جب تک اقتدار کا ہما کپتان کے سر پر نہیں بیٹھا تھا تب تک ہر تقریر میں ایک ہی نعرہ سننے کو ملتا تھا کہ تبدیلی آنہیں رہی بلکہ تبدیلی آگئی ہے لیکن جب سے عمران خان وزارت عظمی کے عہدے پر براجمان ہوا ہے یہ نعرہ پھر سے سننے کو کان ترس گئے ہیں۔ اقتدار ملنے سے قبل جو مکھڑا ہمیشہ مسکراتا ہوا نظر آتا تھا اب اس پر ہروقت سنجیدگی چھائی رہتی ہے۔ وہ چہرہ جو اکثروبیشتر میڈیا کے سامنے رہتا تھا اب ہفتوں بعد بھی بمشکل ہی کیمرے کے سامنے آتا ہے۔ وزیراعظم کی اس حالت زار کی کئی وجوہات ہیں۔ اول، پی ٹی آئی اس سے قبل قومی سطح پر کبھی اقتدار میں نہیں آئی تھی لہذا وہ کسی کو جواب دہ نہیں تھی لیکن حکومت وقت پر سوالات اٹھانا حتی کہ الزام تراشی کرنا انکا حق گردانا جاتا تھا۔اب چونکہ پی ٹی آئی حکومت میں ہے لہذا تبدیلی کے دعوے دار متفکر ہیں کہ کس طرح عوام کو یقین دلایا جائے کہ تبدیلی آگئی ہے۔ دوم، اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا کام ملک کے نظم ونسق کو چلانا ہوتا ہے ۔ لہذا حکمرانوں کے جب سے معلوم پڑا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے خزانے کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہوئے بے دریغ استعمال کیا جسکی بدولت قومی خزانہ خالی ہونے کے ساتھ ساتھ تیس ارب ڈالر کے قرضے، ان پر یومیہ چھ ارب ڈالر سود کی ادائیگی، ڈیڑھ سو ارب گیس اور ساڑھے گیارہ سو ارب بجلی کے گردشی قرضے منہ چڑا رہے ہیں تو ایسے میں کوئی کیسے مسکرا سکتا ہے؟کپتان کے دنوں کا چین ہی نہیں راتوں کی نیندیں بھی حرام ہوچکی ہیں۔ سوم، کپتان کو اقتدار سنبھالنے کے بعدجب معلوم ہواکہ انہوں نے عوام سے لوڈشیدنگ کے خاتمے کے جو وعدے کیے تھے ان کے لئے فنڈز درکار نہیں تو انکی پریشانی بڑھ گئی ۔اسی دوران ہی چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے اکاؤنٹ کھول کر عوام سے چندے کی اپیل کر دی۔ سر منڈاتے ہی اولے پڑنے کے مصداق وزیراعظم کو بھی اس مہم میں شمولیت اختیار کرکے عوام بالخصوص اووسیز پاکستانیوں سے چندے کی اپیل کرنی پڑی جس پر اپوزیشن نے خوب بھد اڑائی کہ ہمیشہ چندوں پر ادارے چلانے والوں کو کیا خبر کہ حکومت کا نظم و نسق کسطرح چلاتے ہیں۔ چہارم، کرپشن کے نام پر دھرنے دینے والی پارٹی کو جب حکومت ملی تو معلوم ہوا کہ اب نعروں کا نہیں بلکہ عمل کا وقت ہے لیکن مسئلہ یہ درپیش ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اوپر سے لیکر نیچے تک ہر چھوٹا بڑا کرپشن میں ملوث ہے وہاں کرپشن کے جن پر کیسے قابو پایا جائے۔ مزید یہ کہ بڑے بڑے لوگوں کی کرپشن کو پکڑنے کی راہ میں کئی قانونی موشگافیاں حائل ہیں۔ بالفرض اگر حکومت وقت کو سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کو پکڑنا ہے تو پہلے انہیں عدالت میں ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ کرپٹ ہیں جسکے لئے کافی وقت درکار ہے جبکہ حکومت کے پاس وقت ہی تو نہیں ہے کیونکہ حکومت وقت کو اپنے اعلان کردہ سو دنوں میں کچھ کر کے دکھانا ہے۔ علاوہ ازیں ہمارا عدالتی نظام بھی اتنا بوسیدہ ہے کہ جسکے حق میں فیصلہ آجائے وہ کہتا ہے کہ انصاف ہوا ہے جبکہ مخالفین ظلم ڈھائے جانے کی دھائی دیتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں حکومتِ وقت کا کرپٹ لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ پنجم،سابقہ حکمران اگر کرپٹ تھے تو موجودہ حکومتی پارٹی میں بھی کوئی فرشتے نہیں ہیں۔ اوپر سے اتحادی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے والی تلوار ہر وقت سرپر منڈلاتی رہے گی ۔ اگر آپکو یاد ہو تو پارٹی ٹکٹس جاری کرتے ہوئے کپتان نے کہا تھا کہ ہمیں الیکٹ ایبلز پر انحصار کرنا پڑے گا ۔یہی الیکٹ ایبلز اور اتحادی جماعتوں کے اراکین ہی اب حکومت کی کرپشن کے خلاف تحریک کے آڑے آئیں گے۔ ششم، پیسہ اور اختیار دیکھ کر بڑے بڑوں کا ایمان ڈول جاتا ہے تو پی ٹی آئی والے کس کھیت کی مولی ہیں۔ملک کی باگ دوڑ ابھی ابھی تو انکے ہاتھ میں آئی ہے ۔یہ تو کچھ عرصے بعد ہی عیاں ہوگا کہ کس رکن اسمبلی ، وزیر یا مشیر نے کیا گل کھلائے ہیں۔ لہذا کپتان کو اپنی پارٹی کے چوروں اور ڈکیٹوں کو بھی نکیل ڈال کے رکھنی پڑے گی۔ ہفتم، کپتان کو کرپشن کو نکیل ڈالنے اور حکومتی انتظام وانصرام چلانے کے لئے اپنے وعدے کے مطابق اداروں کو مضبوط کرنا ہے جسکے لئے وقت، محنت اور خلوص نیت درکار ہے اور یہ خصوصیات کپتان کے علاوہ خال ہی حکومتی پارٹی کے کسی لیڈر ، وزیر یا مشیر میں نظر آتی ہیں۔ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ فی الحال تبدیلی کے دعوے دار وں کی چیخیں نکل رہی ہیں کہ اتنے تباہ شدہ ملک کو کیسے بام عروج پر پہنچایا جائے؟لیکن یہی تو وزیراعظم کا اصل امتحان ہے کیونکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ کپتان نے ہرممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔