اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں۔
پاکستان میں سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس کے کوئی طے شدہ اصو ل نہیں ۔صرف ذاتی مفادات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ عوامی خدمت اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کے بلندوبانگ دعوے کیے جاتے ہیں لیکن جب فیصلے کا وقت آتا ہے تو عوامی سیاست کی بجائے مفاداتی سیاست آڑے آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام نصف صدی سے زائد عرصے سے غربت کی چکی میں پس رہی ہے اور حکمران عوامی پیسوں پر نہ صرف خود عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ اپنے بچوں کی زندگیاں بھی سنوار چکے ہیں۔ پیچھے رہ گئی عوام تو اسکا کوئی پرسان حال نہیں۔
سابقہ دور حکومت میں جب عمران خان نے ڈی چوک میں دھرنا دیا تھا تو حکومت لڑکھڑا چکی تھی ۔ اس مشکل صورتحال میں اگر پیپلز پارٹی ن لیگ کو سہارا نہ دیتی تو حکومت کا چند دن بھی ٹک پانا ممکن نہ رہتالیکن پیپلز پارٹی کی علی الاعلان حمایت کی بدولت عمران خان کا دھرنا ناکام ٹھہرا۔ سیاست بھی عجب کھیل ہے ایک طرف پیپلز پارٹی ن لیگ کی حمایت میں کھڑی ہوئی تھی تو دوسری طرف زرداری کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے ن لیگ انکے خلاف نیب کے کیسز کھلوا رہی تھی ۔شاید ن لیگ کو یقین تھا کہ اگلے پانچ سال بھی انہی کی حکومت ہوگی لہذا سابقہ حکمرانوں نے حالات کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لئے زرداری کے خلاف کرپشن کے کیسز کھلوائے۔شریف خاندان نے اپنی روایتی سیاست کا کھیل جاری رکھا اور پیپلز پارٹی کے علاوہ پی ٹی آئی کے لیڈروں کے خلاف بھی بے شمار مقدمے درج کروائے تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں۔
حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ سابق حکمران دوسروں کے خلاف کنواں کھود رہے تھے مگر برا ہو پانامہ سکینڈل کا جس نے شریف خاندان کی سیاست کا جنازہ نکال دیا۔ میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد حالات ن لیگ کے کنڑول سے باہر ہوگئے ۔ اسی دوران ہی نیب کا چیئرمین ایک ریٹائرڈ جج کو لگا کر شریف خاندان نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارلی۔ کیونکہ اس نے آتے ہی میرٹ پر تحقیقات شروع کردیں جسکی بدولت احد چیمہ اور فواد حسن فواد جیسے لوگ بھی گرفت میں آئے اورپاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے طاقتور ترین سابق وزیراعلی المعروف خادمِ پنجاب کی گرفتاری کی راہ ہموار ہوئی ۔
حالات نے مزید پلٹا کھایا اور زرداری اور شریف خاندان کی امیدوں کے برعکس اقتدار کا ہما عمران خان کے سر پر جا بیٹھا جو سیاست میں ہی اس لئے آیا تھا تاکہ عوام کو کرپٹ سیاستدانوں سے نجات دلائے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں کے سربراہان کو ملک کی اعلی عدالتوں میں کرپشن کے بڑے بڑے مقدمات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم کی کرسی پر ایک ایماندار اور ضدی شخص براجمان ہے جو کسی بھی صورت حز ب اختلاف کی دونوں جماعتوں کو کسی قسم کا این آراو دینے کو تیار نہیں۔
شریف خاندان تو اپنے کھودے ہوئے کنویں میں خود گرے ہیں مگر آصف زرداری کو ان مقدمات میں پھنسانے والا شریف خاندا ن ہی ہے۔اگر شریف خاندان کی حکومت ہوتی تو آصف زرداری کو ان مقدمات کی کوئی پریشانی نہ ہوتی کیونکہ دونوں جماعتیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں لیکن سب کو معلوم ہے کہ عمران خان نہ تو خود کھائے گا اور نہ ہی کسی کو کھانے دے گا لہذا سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔ احتساب کا عمل جو ں جوں آگے بڑھ رہا ہے اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد اسی قدر مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ حالیہ عام انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمن نے آصف زرداری کو پیش کش کی تھی کہ مل جل کر حکومت بنائی جائے مگر زرداری نے وہ پیش کش ٹھکرا دی تھی۔ تاہم اب احتساب کا شکنجہ کسا جارہا ہے توآصف زرداری خود چل کر مولانا فضل الرحمن کے گھر گئے ہیں تاکہ ان کی مدد سے تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کر کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکے۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ حکمران جماعت اکثریت میں ہے مگر یہ وہ سیاسی شعبدہ بازی ہے جس سے حکومت پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تاکہ اپنے مطالبات منوائے جا سکیں۔
عجب طرفہ تماشہ ہے کہ آصف زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمات جن لوگوں نے درج کروائے تھے اب ا نہی کے ساتھ مل کر ہی وزیراعظم پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ انہیں کوئی نیا این آر او دیا جائے۔ بقول میر
میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں