مفادات کی جنگ
وزیراعظم عمران خان اپنی ٹیم کے ہمراہ دو روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جہاں وہ سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے دوطرفہ مزاکرات بھی کریں گے۔ وزیراعظم کا ایک مہینے میں سعودی عرب کا یہ دوسرا اور انتہائی اہم دورہ ہے۔ اس سے قبل کئے گئے دورے میں حکومتی ترجمان نے بلند وبانگ دعوے کئے تھے کہ سعودی عرب عرب پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرے گا تاہم اپوزیشن نے اس دورے کو ناکام قرار دیا جو کہ بعدازاں سچ ثابت ہوا کیونکہ اگر سعودی عرب انتہائی کٹھن معاشی حالات میں پاکستان کی مدد کرتا تو پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضے کی اپیل نہ کرنی پڑتی ۔ اب ایک مرتبہ پھر ہاتھوں میں کشکول لئے حکومت پاکستان کی نظریں سعودی عرب پر گڑیں ہوئی ہیں کہ شاید اس بار کوئی امید برآئے۔
وزیراعظم کے سعودی عرب کے حالیہ دونوں دوروں کے پس منظر کو سمجھا جائے تو حالات زیادہ کھل کر سامنے آئیں گے۔ سابقہ دور حکومت میں سعودی عرب نے پاکستان سے یمن کی جنگ کے لئے فوجی تعاون مانگا تھا تاہم پاکستان کی طرف سے فوجی تعاون کی بجائے اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی کہ اگر کسی نے حملہ کیا تو سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا۔ پاکستان کے اس واضح انکار سے پاک سعودی تعلقات میں دراڑیں پڑ گئیں اور تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آگئے تھے۔ عمران خان کے مسند اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد حکومت کو معلوم ہوا کہ خزانہ بالکل خالی ہے اورتین ہزار ارب روپوں کے قرضے اژدھوں کی طرح منہ کھولے کھڑے ہیں تو وزیراعظم نے دوست ممالک سے مدد حاصل کرنے کی ٹھانی۔ پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا گیا ۔اگرچہ استقبالیہ شاندار تھا مگر حکومتی دعوؤں کے برعکس نتیجہ صفر نکلا کیونکہ سعودی عرب نے اگر مدد کی ہوتی تو پاکستا ن کو آئی ایم ایف کے آگے اپنا کشکول رکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔اور نہیں تو کم از کم پاکستان کو ادھار تیل دے کر پاکستان کی معاشی مشکلات کو گھٹایا جاسکتا تھا ۔
تاہم پلوں کے نیچے سے اب تک کافی پانی بہہ چکا ہے ۔استنبول میں سعودی سفارت خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے سعودی عرب بین الاقوامی سطح پر انتہائی دباؤ اور تنہائی کا شکار ہے ۔سعودی عرب نے جو سرمایہ کاری کانفرنس بلائی ہے اس میں بیشتر یورپی ممالک اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت سے انکار کردیا ہے ایسی صورتحال میں پاکستان کے لئے سنہری موقع ہے کہ سعودی عرب سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرے۔ وزیراعظم کے پہلے دورے کے دوران سوالی پاکستان تھا مگر سعودی عرب نے دھتکار دیا ۔ لیکن دوسرے دورے کے وقت حالات بالکل الٹ ہیں۔ اب سعودی عرب سوالی بن کر کھڑا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دباؤ سے نکلنے کے لئے اسکی مدد کی جائے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو سعودی عرب کو دھتکارنا نہیں چاہیے۔ لوہا جب گرم ہو تو جو چوٹ لگتی ہے وہ زیادہ اثر رکھتی ہے۔ پاکستان آئی ایم ایف کے آگے کشکول رکھ کر جو شرمندگی برداشت کرنی تھی کر چکا ہے ۔ لہذا اب وقت ہے کہ حالات کا پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے ۔ سعودی عرب کو جو مدد درکار ہے وہ دی جائے اور بدلے میں ملکی معاشی حالت کو سنبھالا دینے کے لئے امداد اور کم از کم تین ماہ تک کا ادھار تیل لینے کے معاہدے کیے جائیں۔ اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ آئی ایم ایف کے پاس بھی نہیں جانا پڑے گا اور مزید یہ کہ حکومت کو مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی ۔ عوام کو کچھ ریلیف ملے گا تو حکومت کو بھی تھوڑا سا سکھ کا سانس نصیب ہوگا۔
بین الاقوامی سطح پر دوستیاں کوئی حثیت نہیں رکھتی صرف ملکی مفادات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ امریکہ کو صحافی جمال خاشقجی کی موت کا کوئی دکھ نہیں ۔ اسے معلوم ہے کہ سعودی عرب یمن کے ساتھ حالت جنگ میں ہے لہذا اسے دفاعی سامان کی اشد ضرورت ہے۔جبکہ دوسری طرف امریکہ کو ریونیو کی ضرورت ہے۔ اسی لئے امریکہ پسِ پردہ سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ اس سے جنگی جہاز اور دیگر دفاعی سازو سامان خریدے۔ امریکہ کے ہاتھ میں چونکہ تمام یورپی ممالک کی دوڑ ہے لہذا وہ جیسے ہلاتا ہے سب ہلتے جارہے ہیں۔
پاک چین دوستی جو کہ فولاد سے زیادہ مضبوط اور ہمالیہ سے اونچی گردانی جاتی ہے مگرحقیقت اسکے برعکس ہیں۔ آئی ایم ایف ایک فیصد شرح سو د پر چار سال کے لئے قرضہ دیتا ہے مگر ہمارے پیارے دوست چین نے سابقہ حکومت کو ساڑھے آٹھ فیصد شرح سود پر ایک سال کے لئے انتہائی مہنگے قرضے دیئے جس پر ہمارے سابقہ حکمران پھولے نہ سماتے تھے۔ تو جناب بین الاقوامی سطح پر دوستیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں ۔ اگر کوئی چیز معنی رکھتی ہے تو وہ ہے ملکی مفاد ۔ جس طرح سعودی عرب، امریکہ ، چین اور دیگر تمام ممالک کو اپنا اپنا مفاد عزیز ہے اسی طرح پاکستان کو بھی اپنامفاد دیکھنا چاہیے۔ بلاشبہ ہماری فوج مکہ اور مدینہ کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے لیکن اگر ہماری عوام اور فوجیوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوگا اور ہمارے فائٹر طیاروں میں ڈالنے کو تیل ہی دستیاب نہیں ہوگا تو ہم مکہ و مدینہ کی حفاظت کرپائیں گے اور نہ ہی سعودی حمایت میں بول سکیں گے کیونکہ جب اپنے گھر میں فاقے ہوں تو رشتہ داروں کی لڑائیوں سے کوئی سروکار نہیں رہتا۔
وزیراعظم عمران خان اپنی ٹیم کے ہمراہ دو روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جہاں وہ سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے دوطرفہ مزاکرات بھی کریں گے۔ وزیراعظم کا ایک مہینے میں سعودی عرب کا یہ دوسرا اور انتہائی اہم دورہ ہے۔ اس سے قبل کئے گئے دورے میں حکومتی ترجمان نے بلند وبانگ دعوے کئے تھے کہ سعودی عرب عرب پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرے گا تاہم اپوزیشن نے اس دورے کو ناکام قرار دیا جو کہ بعدازاں سچ ثابت ہوا کیونکہ اگر سعودی عرب انتہائی کٹھن معاشی حالات میں پاکستان کی مدد کرتا تو پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضے کی اپیل نہ کرنی پڑتی ۔ اب ایک مرتبہ پھر ہاتھوں میں کشکول لئے حکومت پاکستان کی نظریں سعودی عرب پر گڑیں ہوئی ہیں کہ شاید اس بار کوئی امید برآئے۔
وزیراعظم کے سعودی عرب کے حالیہ دونوں دوروں کے پس منظر کو سمجھا جائے تو حالات زیادہ کھل کر سامنے آئیں گے۔ سابقہ دور حکومت میں سعودی عرب نے پاکستان سے یمن کی جنگ کے لئے فوجی تعاون مانگا تھا تاہم پاکستان کی طرف سے فوجی تعاون کی بجائے اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی کہ اگر کسی نے حملہ کیا تو سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا۔ پاکستان کے اس واضح انکار سے پاک سعودی تعلقات میں دراڑیں پڑ گئیں اور تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر آگئے تھے۔ عمران خان کے مسند اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد حکومت کو معلوم ہوا کہ خزانہ بالکل خالی ہے اورتین ہزار ارب روپوں کے قرضے اژدھوں کی طرح منہ کھولے کھڑے ہیں تو وزیراعظم نے دوست ممالک سے مدد حاصل کرنے کی ٹھانی۔ پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا گیا ۔اگرچہ استقبالیہ شاندار تھا مگر حکومتی دعوؤں کے برعکس نتیجہ صفر نکلا کیونکہ سعودی عرب نے اگر مدد کی ہوتی تو پاکستا ن کو آئی ایم ایف کے آگے اپنا کشکول رکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔اور نہیں تو کم از کم پاکستان کو ادھار تیل دے کر پاکستان کی معاشی مشکلات کو گھٹایا جاسکتا تھا ۔
تاہم پلوں کے نیچے سے اب تک کافی پانی بہہ چکا ہے ۔استنبول میں سعودی سفارت خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے سعودی عرب بین الاقوامی سطح پر انتہائی دباؤ اور تنہائی کا شکار ہے ۔سعودی عرب نے جو سرمایہ کاری کانفرنس بلائی ہے اس میں بیشتر یورپی ممالک اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت سے انکار کردیا ہے ایسی صورتحال میں پاکستان کے لئے سنہری موقع ہے کہ سعودی عرب سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرے۔ وزیراعظم کے پہلے دورے کے دوران سوالی پاکستان تھا مگر سعودی عرب نے دھتکار دیا ۔ لیکن دوسرے دورے کے وقت حالات بالکل الٹ ہیں۔ اب سعودی عرب سوالی بن کر کھڑا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دباؤ سے نکلنے کے لئے اسکی مدد کی جائے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کو سعودی عرب کو دھتکارنا نہیں چاہیے۔ لوہا جب گرم ہو تو جو چوٹ لگتی ہے وہ زیادہ اثر رکھتی ہے۔ پاکستان آئی ایم ایف کے آگے کشکول رکھ کر جو شرمندگی برداشت کرنی تھی کر چکا ہے ۔ لہذا اب وقت ہے کہ حالات کا پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے ۔ سعودی عرب کو جو مدد درکار ہے وہ دی جائے اور بدلے میں ملکی معاشی حالت کو سنبھالا دینے کے لئے امداد اور کم از کم تین ماہ تک کا ادھار تیل لینے کے معاہدے کیے جائیں۔ اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ آئی ایم ایف کے پاس بھی نہیں جانا پڑے گا اور مزید یہ کہ حکومت کو مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی ۔ عوام کو کچھ ریلیف ملے گا تو حکومت کو بھی تھوڑا سا سکھ کا سانس نصیب ہوگا۔
بین الاقوامی سطح پر دوستیاں کوئی حثیت نہیں رکھتی صرف ملکی مفادات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ امریکہ کو صحافی جمال خاشقجی کی موت کا کوئی دکھ نہیں ۔ اسے معلوم ہے کہ سعودی عرب یمن کے ساتھ حالت جنگ میں ہے لہذا اسے دفاعی سامان کی اشد ضرورت ہے۔جبکہ دوسری طرف امریکہ کو ریونیو کی ضرورت ہے۔ اسی لئے امریکہ پسِ پردہ سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ اس سے جنگی جہاز اور دیگر دفاعی سازو سامان خریدے۔ امریکہ کے ہاتھ میں چونکہ تمام یورپی ممالک کی دوڑ ہے لہذا وہ جیسے ہلاتا ہے سب ہلتے جارہے ہیں۔
پاک چین دوستی جو کہ فولاد سے زیادہ مضبوط اور ہمالیہ سے اونچی گردانی جاتی ہے مگرحقیقت اسکے برعکس ہیں۔ آئی ایم ایف ایک فیصد شرح سو د پر چار سال کے لئے قرضہ دیتا ہے مگر ہمارے پیارے دوست چین نے سابقہ حکومت کو ساڑھے آٹھ فیصد شرح سود پر ایک سال کے لئے انتہائی مہنگے قرضے دیئے جس پر ہمارے سابقہ حکمران پھولے نہ سماتے تھے۔ تو جناب بین الاقوامی سطح پر دوستیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں ۔ اگر کوئی چیز معنی رکھتی ہے تو وہ ہے ملکی مفاد ۔ جس طرح سعودی عرب، امریکہ ، چین اور دیگر تمام ممالک کو اپنا اپنا مفاد عزیز ہے اسی طرح پاکستان کو بھی اپنامفاد دیکھنا چاہیے۔ بلاشبہ ہماری فوج مکہ اور مدینہ کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے لیکن اگر ہماری عوام اور فوجیوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوگا اور ہمارے فائٹر طیاروں میں ڈالنے کو تیل ہی دستیاب نہیں ہوگا تو ہم مکہ و مدینہ کی حفاظت کرپائیں گے اور نہ ہی سعودی حمایت میں بول سکیں گے کیونکہ جب اپنے گھر میں فاقے ہوں تو رشتہ داروں کی لڑائیوں سے کوئی سروکار نہیں رہتا۔