Friday, November 16, 2018

Loha Garam he...

لوہا گرم ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک وڈیو دیکھی جس میں برکت مارکیٹ لاہور کا رہائشی ایک کم عمر بچہ اپنی لرزتی ہوئی آواز میں ہجوم کے پاس کھڑا ہوکر غلیظ ترین گالیاں دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کو للکار رہا ہے۔ ایسی ہی کئی اور وڈیوز آجکل سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔ ان وڈیوز کو دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے بچوں کو یہ سب کچھ کون سکھا رہا ہے۔ وہ بچے جنکو یہ تک نہیں معلوم کہ غسل کیسے کیا جاتا ہے وہ لوگوں کو گستاخ رسول ہونے کے فتوے جاری کر رہے ہیں اور وزیراعظم کو للکار رہے ہیں کہ فلاں کو چھوڑ دیا تو تمہارا حشر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ سے آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ آیاتوہمارے شدت پسند مذہبی رہنماؤں کی کال پر ہمارے شدت پسند مذہبی بھائیوں نے سارے میں ملک میں آگ لگا دی۔ تین چار روز تک ملک مفلوج رہا۔ لوگ تو کجا ہمارے ریاستی ادارے تک سہمے رہے کہ اب کیا ہوگا۔ جب معاملہ انتہا کو پہنچا اور شدت پسندوں نے معزز ججوں کو قتل اور پاک فوج میں بغاوت کے فتوے جاری کیے تو ریاستی اداروں کے سربراہان کو ہوش آیا کہ اگر اب بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے تو خدانخواستہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا۔ خیر وزیراعظم کا قوم سے اچانک خطاب اور پھر بیک ڈور مذاکرات رنگ لائے اور شدت پسندوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی شدت پسندی ہمارے معاشرے میں کیسے در آئی ہے اور اسکا تدارک کیونکر ممکن ہے؟تو اسکا سادہ سا جواب یہ ہے کہ دہائیوں سے ہم نے اداروں کی بجائے شخصیتوں کو مضبوط کیا ہے۔ جو بھی حکومت میں آیا جیبیں بھرنے کے لئے آیاجسکے لئے ہر ممکن ذرائع استعمال کیے گئے۔ اپنی مرضی کے بندے بھرتی کیے گئے۔ اداروں کے سربراہان ایسے لگائے جاتے رہے جو ہاتھ باندھے سربستہ کھڑے رہیں اور چوں تک نہ کریں۔ تمام اداروں میں ترقیاں بھی میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر ہوتی رہیں تو ایسی صورت حال میں ابن الوقتوں کی ایسی ظفر موج تیار ہوئی جو اپنی تفویض کردہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے چاپلوسی سے کام نکلوانے کو ترجیح دیتی ہے۔ پولیس کا محکمہ جس نے ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کو یقینی بنانا ہوتا ہے کی ہرسیٹ پر سفارشی اور سیاسی لوگ براجمان ہیں اور جو دیانتداراور کام کرنے والے ہیں وہ دہائیوں سے کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے سیاستدان بھی اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر ایسے شدت پسندوں کو استعمال کرتے ہیں۔ کبھی ووٹ کے حصول کے لئے تو کبھی اپنے مخالف کو دبانے کے لئے۔ ہمارا ماضی گواہ ہے کہ ہمارے سیاستدان شدت پسندوں کو اپنی انتخابی مہمات میں اپنے ہمراہ لیکر ریلیوں میں شرکت کرتے رہے اور جب حکومت میں آتے تو انکی مکمل سپورٹ کرتے رہے۔ جب سیاستدان ہی شدت پسندوں کو اتنی کھلی چھوٹ دیں گے تو پھر وہ ریاستی اداروں کو کسی خاطر میں نہیں لائیں گے۔لہذا وہ من موجی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آسیہ بی بی کیس کا جب فیصلہ آیا تو شدت پسند اپنے مضموم مقاصد کے حصول کے خاطر سڑکوں پر آگئے ، نظام زندگی مفلوج کردیااور عوامی املاک کو نذر آتش کرتے رہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان پرتشدد مظاہروں کے دوران عام لوگوں کی جو املاک جلائی گئیں ان کا مداوا کون کرے گا۔ اگر حکومت ان نقصانات کا مداوا کرتی ہے تو دوسرا سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ شدت پسندوں نے جو املاک جلائیں اسکا مداوا عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کیوں کیا جارہا ہے؟ذمہ دارتو وہ ہیں جنہوں نے املاک جلائیں تو سزا عوام کو کیوں دی جارہی ہے ؟ مزید یہ کہ ان شدت پسند گروہوں کے عام کارکن گرفتار کیے جاچکے ہیں یا کیے جارہے ہیں لیکن جن لوگوں نے انکو تشدد پر اکسایا انکے ساتھ حکومت معاہدے کرچکی ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ کینسر کی جڑ کو ختم کرنے کی بجائے کینسر سے متاثرہ اعضاء کو کاٹا جارہا ہے۔ حکومت وقت ان لوگوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتی جو اس تمام تر بدامنی اور لاقانونیت کے ذمہ دار ہیں؟تو جناب اصل بات یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کی طرح ہماری نئی حکومت بھی ان شدت پسندوں سے ڈر گئی ہے۔تاہم جیسے نئی نویلی دلہن ظالم سسرال سے وقتی طور پر سمجھوتہ کرلیتی ہے شاید حکومت وقت کی بھی یہی سوچ ہے۔ اگرسابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن ہے تو پھر یاد رکھیں شدت پسندی کا یہ الاؤ بظاہر بجھ گیا ہے لیکن اندرون راکھ کوئلے ابھی بھی دہک رہے ہیں جنکو ذرا سا بھی ایندھن میسر آیا تو ایک بڑے الاؤ کا روپ دھار لیں گے اور پاکستان کا امن و سکون برباد کردیں گے۔ جس ملک میں امن و شانتی نہیں ہوتی وہاں ترقی بھولے سے بھی قدم نہیں رکھتی ۔ لہذا ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے جلاؤ گھراؤ کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزائیں دلواتے ہوئے متاثرین کو پورا پورا معاوضہ دلوائیں تاکہ آئندہ سے شدت پسندوں کو نصیحت ہوجائے کہ جیسا کرو گے ویسا بھر وگے۔ ابھی وقت ہے ، لوہا گرم ہے ، جس شکل میں ڈھالو گے ڈھل جائے گا۔ لیکن اگر مزید تاخیر کی گئی تو پھر شدت پسندی کو روکنا ممکن نہ رہے گا۔