اب ڈومورکا مطالبہ پاکستان کرے
نو گیارہ سے پہلے افغانستا ن میں طالبان کا سورج پوری آب وتاب سے چمک رہا تھااور اسکے زیادہ تر حصہ پر طالبان کی اجارہ داری تھی لیکن یہ حکومت زیادہ دیر اپنا اثرورسوخ قائم نہ رکھ سکی کیونکہ نوگیارہ کے سانحہ کے بعد امریکہ اپنے اکیالیس اتحادیوں کے ہمراہ پورے جاہ وجلال سے افغانستان پر حملہ آور ہوااور افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ چنگھاڑتے ہاتھی کی مانند جب امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا تو ساری دنیا سہمی ہوئی تھی ماسوائے افغانستان کے اس چھوٹے سے مذہبی ٹولے کے جوکہ بضد تھا کہ اسامہ بن لادن انکا مہمان ہے اور وہ اپنے مہمان کو کسی صورت بھی امریکہ کے حوالے نہیں کریں گے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت روس اور چین سمیت کسی ملک کو بھی یہ جرات نہ ہوئی کہ امریکہ کی مخالفت کرتا لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ دراصل افغانستا ن کو بڑی طاقتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے کیونکہ برطانیہ اور روس جیسی بڑی طاقتیں اس ملک پر حملہ آور ہو کر خاک چاٹ چکی ہیں۔ لہذا جب امریکہ بدمست ہاتھی کی طرح اس کی طرف لپکا تو روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں نے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملائی کیونکہ انکو معلوم تھا کہ امریکہ کو اگر کمزور کرنا ہے تو اسکی صرف ایک ہی صورت ہے کہ اسے افغانستان میں داخل ہونے دیا جائے۔ دوسری طرف امریکہ کے افغانستان میں داخل ہونے کے کچھ اپنے مفادات تھے مثلاََ چین اور روس پر نظر رکھنے کے لئے اس خطے میں ہمہ وقت موجودگی، افغانستان کے معدنی دخائر ، پوست کے کاروبار سے فائدہ اٹھانا، چین کے مقابلے میں بھارت کو کھڑا کرنے اور پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے بھارت کوافغانستا ن میں ہرممکن مدد فراہم کرناوغیرہ شامل ہے۔
افغانستان میں داخل ہوتے ہوئے امریکہ کی حالت دیدنی تھی کیونکہ وہ زخمی ہاتھی کی طرح چنگھاڑ رہا تھااور اپنے راستے میں آنے والی ہر طاقت کو نیست و نابود کرتاجارہا تھا۔ لیکن طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد امریکی افواج اپنے اکیالیس اتحادی ممالک کے ساتھ افغانستان کا چپہ چپہ چھانتے رہے مگر انہیں اسامہ بن لادن کہیں بھی میسر نہ آیا لہذا تقریبا ایک دہائی بعد امریکہ نے فیس سیونگ کے لئے نوگیارہ کی طرح ایک اور ڈرامہ رچایا اور پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں راتوں رات ایک آپریشن کرکے اسامہ بن لادن کو قتل کرکے اسکی لاش سمند ر بردکردی۔ جس طرح نوگیارہ سانحہ کی سچائی پر آج بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اسی طرح ایبٹ آباد آپریشن بھی ایک ڈرامہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکہ جن مقاصد کے حصول کے لئے افغانستان میں داخل ہوا تھا آج واضح ہے کہ وہ ان کوششوں میں مکمل ناکام رہا ہے ۔ مثلاََ دو بڑے مقاصد بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنا اور پاکستان اور پاک فوج کو کمزور کرنا تھے مگر آج چین بھارت تو کیا امریکہ سے بھی آگے نکل رہا ہے جبکہ پاکستان اور پاکستانی افواج نے مسلط کی گئی دہشت گردی کی جنگ کو جوانمردی سے لڑتے ہوئے اس سے چھٹکارا حاصل کرلیا ہے۔ آج پاکستان کی عوام ، حکومت اور افواج دہشت گردوں کے خلاف ایک پیج پر ہیں۔ لیکن دوسری طرف امریکہ پچھلے سترہ سالوں سے افغانستان میں طالبان سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہے۔ پہلے پاکستان پر الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان دہشت گردوں کی مدد کررہا ہے کیونکہ طالبان مجاہدین پاکستان کے قبائلی علاقوں میں روپوش ہیں۔ چاروناچار پاکستان کو اپنے قبائل علاقوں میں فوجی آپریشن کرنے پڑے جسکی بدولت پاکستانی عوام اور افواج نے بے پناہ جانی و مالی نقصانات اٹھائے۔ لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان اس امتحان میں کامیاب و کامران ٹھہرا ۔ دنیا کی تاریخ میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی ہے۔تاہم امریکہ پھر بھی بضد ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو مدد فراہم کررہا ہے۔حالیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب اقتدار میں آیا تو اس نے آتے ہیں پاکستان کی مالی امداد بند کر دی اور ڈومور کا مطالبہ کیا۔اس سال کے پہلے سورج کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ٹویٹ بھی پاکستان کے خلاف تھی جس میں پاکستان پر الزام عائد کیا گیا کہ امریکہ نے پچھلے پندرہ سالوں میں پاکستان کو 33ارب ڈالر دئیے ہیں مگر بدلے میں پاکستان کی طرف سے دھوکہ ہی ملا۔ اس ٹویٹ کی بدولت پاکستان کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی۔
لیکن حالات تب بدلے جب عمران خان برسراقتدار آیا۔ نومبر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو جواباََ عمران خان نے کئی ٹویٹس کیں اور امریکہ کو باور کروایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔یہ ٹویٹس اتنی مدلل اور حقائق پر مبنی تھیں کہ پینٹاگون کے ترجمان کو بھی وضاحت کرنی پڑی ۔ عمران خان کے دوٹوک موقف کو نہ صرف اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں نے سراہا بلکہ دنیا بھر کے اخبارات نے نمایاں جگہ پر چھاپا ۔یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے امریکہ کو اس طرح دوٹوک جواب دیا گیا ہو۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ خط لکھ کر وزیراعظم پاکستان سے مدد کی اپیل کی ہے کہ افغانستان کے طالبان کو امریکہ کے ساتھ مزاکرات کی میز پر لایا جائے۔یہ بھی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے باقاعدہ خط لکھ کر پاکستانی وزیراعظم سے مدد کی اپیل کی ہو وگرنہ تو وہاں سے صرف حکم آتے تھے اور ادھر سے جی سر کی صدائیں بلند ہوتی تھیں۔
ان حالات سے واضح ہے کہ حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ افغانستان کی سترہ سالہ جنگ نے بدمست امریکی ہاتھی کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے ہیں۔ اس وقت افغانستا ن کے تقریبا ستر فیصد حصے پر عملاََ طالبان کی اجارہ داری ہے اوردنیا کی سپر پاور اب انکے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نظر آتی ہے۔ امریکی اب اس جنگ سے نہ صرف اکتا چکے ہیں بلکہ تھک بھی چکے ہیں۔ اس جنگ نے ان کا کچومر نکال دیا ہے۔ اب وہ اس سے چھٹکارا چاہتے ہیں لیکن وہ تو کمبل کو چھوڑ رہے ہیں مگر کمبل انکو چھوڑ نہیں رہا۔ اب نگلے بات بنتی ہے اور نہ ہی اگلنے سے جان کی خلاصی ہوتی ہے۔ ساری دنیا پر عیاں ہے کہ افغانستان میں امریکی سورج غروب ہورہا ہے۔ لہذا چاروناچار امریکہ ہاتھ پاؤں مار رہا ہے کہ انکے سپر پاور ہونے کا بھرم رہ جائے۔ امریکہ برطانیہ اور روس کی طرح افغانستان سے ذلیل و خوا ر ہوکرنہیں نکلنا چاہتا۔ چونکہ پاکستان میں اب حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اسی لئے امریکی صدر کو وزیراعظم عمران خان کو باقاعدہ خط لکھ کر مدد کی اپیل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔دوسری طرف پاکستان بھی چاہتا ہے کہ اس جنگ سے چھٹکارا ملے لہذا پاکستان بھی طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانے میں بھرپور کردار اداکرے گا۔
لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہاتھ آئے ایسے نادر موقع کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔امریکہ نے ہمیشہ پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا ہے۔ اب ڈومور کا مطالبہ پاکستان کی طرف سے ہونا چاہیے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان نے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے جسکے مداوے کے لئے امریکہ سے چند شرائط پہلے سے طے کرلی جائیں جن میں سے دو شرائط پاکستان کے لئے امریکی امداد کی بحالی ہے اور دہشت گردی کے خلاف ہونے والے پاکستانی نقصانات کا ازالہ ہے کیونکہ امریکہ اس وقت مصیبت میں ہے جبکہ پاکستان کو پیسوں کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ہمیشہ استعمال کرکے پھینکا ہے ۔ اس بار پاکستان کی باری ہے۔