کیا بسنت کے معاملے میں بھی یوٹرن لینا پڑے گا ؟
حکومت پنجاب نے فروری کے دوسرے ہفتے میں بسنت منانے کا اعلان کرکے ایک اور مصیبت اپنے سر ڈال لی ہے۔ پچھلے بارہ سالوں سے عائد اس پابندی کو انتہائی عجلت میں اٹھائے جانے کو بعض حلقے احمقانہ فعل گردان رہے ہیں۔آئیے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ لاہوریے اس بار بسنت منا پائیں گے یا حکومت پنجاب کو ایک اور یوٹرن لینا پڑے گا۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو بسنت کے تہوار کا باقاعدہ آغازہندو راجہ رنجیت سنگھ کے دور سے ہوا۔پتنگ اُڑانا اس تہوار کا سب سے اہم جزو ٹھہرایا گیا۔ امرتسر ، لاہور اور قصور اس تہوار کے روایتی علاقے گردانے جاتے ہیں تاہم لاہور کو اس سلسلہ میں مرکزی حثیت حاصل ہے۔ یہ تہوارجنوری کے اختتام یا فروری کے آغاز پر منایا جاتا ہے۔ اس تہوارمیں لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر پتنگ بازی کرتے اور ایک دوسرے سے پیچ لڑاتے ہیں۔ دعوتیں ہوتی ہیں، ڈھول بجتے ہیں، گھروں کی چھتوں پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر ناچ گانوں سے بھی دل بہلائے جاتے ہیں۔ ایک دہائی قبل تک یہ تہوار لاہور میں اتنا مقبول تھا کہ نہ صرف پاکستان کے ہر حصے سے لوگ لاہور آتے بلکہ بیرون ملک سے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس تہوار میں شرکت کیلئے لاہور تشریف لاتے تھے۔
لیکن پھر ناجانے کس کی نظر لگ گئی کہ لوگوں کے چہروں پر خوشیاں لانے والا یہ تہوار دیکھتے ہی دیکھتے خونی کھیل میں بدل گیا۔جوکھیل دلوں کو جوڑتا تھا ، مختلف گھروں میں صف ماتم بچھانے لگ پڑا۔ کہتے ہیں لالچ انسان کو اندھا کردیتاہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے پتنگ باز بہتر سے بہترین دھاتی ڈور کی فرمائش کرنے لگے۔ دھاتی ڈور بنانے والوں کو جب منہ مانگی قمیت ملی تو انہوں نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر کانچ کا شیشہ اور خطرناک کیمیکل لگی ڈور بنا کر دینی شروع کردی۔ جس سے پتنگ بازوں کو تو فائدہ ہوا کہ انکے مخالفین کی ڈور ایک جھٹکے میں کٹ جانے لگی مگر اسکا نقصان یہ ہوا کہ کیمیکل لگی ڈور جسکی گردن پر پھر جاتی وہ موت کی آغوش میں چلا جاتا یا ہسپتال پہنچ جاتا۔ جب اس دھاتی ڈور کی مانگ اور استعمال بڑھا تو اموات بھی زیادہ ہونا شروع ہوگئیں ۔لہذا ردعمل میں معاشرتی آوازوں نے زور پکڑا تو حکومت کو چاروناچار بسنت کے تہوار پر پابندی عائد کرنا پڑی۔
مسلم لیگ ن کے سابقہ دونوں ادوار میں اس تہوار پر پابندی برقرار رہی ۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی اس تہوار کے منانے کا اعلان کر دیا ہے یہ دیکھے بغیر کہ اس تہوار سے پابند ی اٹھانا ممکن ہے بھی یا نہیں۔ انتہائی عجلت میں کیا گیا یہ فیصلہ یقیناًتحریک انصاف کی حکومت کو واپس لینا پڑے گا ۔ اسکی کئی وجوہات ہیں۔ اول، راہگیروں، سائیکل سواروں اور موٹرسائیکل سواروں کے گردنوں پر قاتل ڈور پھرنے سے بے گناہ شہریوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔ دوم، قاتل ڈور پر پابندی لگانا ممکن نہیں۔ کیونکہ اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو جب منہ مانگی قیمت ملتی ہے تو وہ ہرطرح کی ڈور تیار کرنے لگتے ہیں جبکہ دوسری طرف پنجاب پولیس کے پاس ایسا کوئی نظا م نہیں کہ قاتل دھاتی ڈور بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرسکے۔ بالفرض اگر پنجاب پولیس لاہور میں قاتل ڈور بنانے والوں کو قابو کر لیتی تو منافع خور اس قاتل ڈور کی تیاری لاہو رسے باہر شروع کر دیں گے۔ جسے قابو میں لانا پنجاب پولیس کے بس میں نہ ہوگا۔ سوم، بسنت کے تہوار میں پتنگیں اڑاتے ہوئے اور کٹی پتنگوں کو پکڑتے ہوئے اکثر بچے گھروں کی چھتوں سے گر کر جاں بحق ہوجاتے ہیں یا پتنگوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے کسی گاڑی سے ٹکرا کر اپنے خالق حقیقی سے جاملتے ہیں۔ ایسے واقعات بھی لوگوں کو بسنت کے خلاف آواز اٹھانے پر اکساتے ہیں۔ چہارم، پتنگ بازی کے دوران اکثر لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر ہوائی فائرنگ کرتے ہیں جس سے کئی لوگ اندھی گولیاں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پنجم، لاہور شہر میں اس وقت لیسکو کے دو سو سے زائد گرڈ اسٹیشنز اور پندرہ سو سے زائد فیڈرز ہیں۔ دھاتی ڈور کی بدولت ان فیڈرز سے بجلی کی باربار ٹرپنگ ہوگی جس سے بجلی کی ترسیل کا نظام انتہائی متاثر ہوگا اورنہ صرف لیسکو کو لاکھوں کا نقصان ہوگا بلکہ کاروباری حضرات کو بھی کروڑوں کے ریونیو لاسسز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ششم۔ بجلی کی بار بار ٹرپنگ سے عام شہریوں کی الیکٹرانک اشیاء بھی جل جائیں گی۔ ہفتم، شرعی اعتبار سے بھی بسنت کا تہوار کوئی اسلامی تہوار نہیں لہذا اس تہوا ر کے دوبارہ آغاز سے ہماری مذہبی و سیاسی جماعتوں کو حکومت کے خلاف تنقید کے نشتر چلانے کا موقع ملے گا۔
درج بالا سطور سے عیاں ہے کہ بسنت کے تہوار پر عائد پابند ی اٹھانا کسی طور بھی دانشمندانہ اقدام نہیں۔ ماضی میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی کئی بار یہ پابندی اٹھانے کا عندیہ دیا لیکن عوام الناس کے جانی و مالی نقصان کی بدولت انہیں یہ فیصلے واپس لینے پڑے۔ حالانکہ ماضی میں درج بالا نقصانا ت سے بچاؤ کی کئی تدبیریں بھی کئی گئیں مثلا لیسکو کی تنصیبات کو دھاتی ڈور کے ٹکراؤ سے بچانے کے لئے گرڈ اسٹیشنوں پر جال بھی لگوائے گئے مگر اسکے باوجود بھی حکومت کو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کوئی خطر خواہ کامیابی نہیں ملی ۔ لہذا چاروناچار سابقہ صوبائی حکومتوں کو اس تہوار پر پابندی برقرار رکھنی پڑی۔
اگرچہ پچھلے بارہ سالوں سے اس تہوار پر پابندی عائد ہے لیکن اسکے باجود بھی رواں سال دو افراد جاں بحق اور انیس افراد زخمی ہوئے۔ پتنگ بازی ایکٹ کے تحت رواں سال دو ہزار پانچ سو افراد کے خلاف مقدمات کا اندارج ہوا جبکہ تقریبا چھبیس سو افراد ایسے تھے جو پتنگ اڑانے اور اسکا سامان بیچنے کے جرم میں گرفتار ہوئے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو خادم اعلی کی حکومت نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے اٹھائے۔پچھلے دس سال جو حکومت پنجاب میں براجمان رہی وہ اس تہوار پر عائد پابند ی نہیں اٹھا پائی تو تحریک انصاف کی نومولود اور ناتجربہ کار حکومت اس پابندی کو کیسے ہٹاپائے گی۔ نہ صرف اپوزیشن جماعتیں اس تہوار سے پابندی ہٹانے کی مخالفت کررہی ہیں بلکہ بعض حلقوں نے توحکومت پنجاب کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر لیا ہے۔ مزید یہ کہ پنجاب کی بیوروکریسی بھی اس کے خلاف آواز بلند کررہی ہے۔سب سے زیادہ پنجاب پولیس اس پابندی کو ہٹانے کی مخالفت کرے گی کیونکہ پابندی ہٹائے جانیکی صورت میں جب اموات واقع ہونگی تو سب سے زیادہ انگلیاں پنجاب پولیس کی نااہلی پر ہی اٹھیں گی ۔ پنجاب پولیس اس پابندی کو ہٹانے کی حمایت کرکے اپنے پاؤ ں پر کلہاڑی مارنے کی حماقت ہرگز نہیں کرے گی۔
ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت پنجاب نے انتہائی عجلت میں بسنت کا تہوار منانے کا اعلان کرکے انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام اٹھایا ہے۔ اور اگر یہ اعلان نہیں ہے بلکہ صرف کمیٹی کی تشکیل ہے تو اتنا واویلا کرنا بھی انتہائی حماقت ہے۔ یہ اعلان کمیٹی کی سفارشات آنے کے بعد بھی کیا جاسکتا تھا۔ خیرجو بھی ، تحریک انصاف کی حکومت کو بسنت کے معاملے میں بھی یوٹرن لینا پڑے گا۔