Friday, May 4, 2018

خلائی مخلوق ، نوازشریف اور جمہوریت


خلائی مخلوق ، نوازشریف اور جمہوریت۔

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنے حالیہ بیان میں فرمایا کہ انکا مقابلہ زرداری سے ہے اور نہ کپتان سے بلکہ انکا مقابلہ ایک خلائی مخلوق سے ہے۔ انکی دیکھادیکھی ن لیگ کے باقی لیڈروں نے بھی خلائی مخلوق کو للکارنا شروع کر دیا ہے۔ یہ کون سی خلائی مخلوق ہے جو صرف پاکستان میں اترتی ہے اور اسکا مقابلہ صرف اور صرف ن لیگ سے ہے جب کہ باقی سیاسی پارٹیوں کو استثنی حاصل ہے۔یہاں خلائی مخلوق سے مراد دراصل پاکستانی فوج ہے۔ سوال یہ ہے کہ نوازشریف نے فوج کا نام لینے کی بجائے خلائی مخلوق کا لفظ کیوں استعمال کیا۔ اسکی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اول یہ کہ خلائی مخلوق ایک طاقتور مخلوق ہوتی ہے۔ فوج بھی پاکستان میں سب سے طاقتور ادارہ ہے۔ دوم ، خلائی مخلوق غائب بھی ہوسکتی ہے اور جب چاہے سامنے بھی آجاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ فوج نے کئی بار ملک میں مارشل لاء لگایا اورکئی بار سیاست میں غائبانہ کردار بھی ادا کیا ۔یہاں سوال یہ ہے کہ صرف میاں نوازشریف ہی کیوں شور مچارہے ہیں کہ انکا ایک خلائی مخلوق سے مقابلہ ہے۔باقی پارٹیوں کے سربراہ کیا اس خلائی مخلوق سے ڈرتے ہیں؟دراصل اس وقت پاکستان میں تین بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں ۔ ن لیگ ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی ۔ ان تینوں میں سے تحریک انصاف کو متحرک اور عوامی سیاست میں قدم رکھے ابھی صرف پانچ سال کا عرصہ ہوا ہے ۔ ان پانچ سالوں میں پاکستان میں ن لیگ کی حکومت تھی ۔ لہذا تحریک انصاف کااس خلائی مخلوق سے واسطہ نہیں پڑا۔ پیپلزپارٹی ایک پرانی اور عوامی جماعت ہے جسکا بانی ذوالفقار علی بھٹو اسی خلائی مخلوق کے ہاتھوں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ بعدازاں خلائی مخلوق کے غائبانہ کردار کی بدولت نوازشریف کے ذریعے بینظر کی حکومت ختم کروائی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری نے پہلے اسی خلائی مخلوق کو للکار کر کہا کہ انکی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا مگر پھر بیرون ملک بھاگ گئے اور تب وطن واپس لوٹے جب درون خانہ اس خلائی مخلوق سے صلح ہوگئی۔ زرداری عقل مند نکلا ۔ اسے اپنے دو سابقہ لیڈروں کا حال معلوم تھا لہذا اس نے مفاہمت میں ہی عافیت جانی۔ لیکن نوازشریف کا ماضی ان دونوں پارٹیوں سے یکسر مختلف ہے۔ نوازشریف کی سیاست کا سنگ بنیاد اسی خلائی مخلوق نے رکھا۔اسی خلائی مخلوق کی کھلم کھلا اورکبھی غائبانہ مدد کے ساتھ نوازشریف پہلے پنجا ب کے وزیراعلی بنے اورپھر وزیراعظم پاکستان ۔ میاں نوازشریف پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے خوش قسمت لیڈر ہیں جہیں تین دفعہ پاکستان کا وزیر اعظم بننے کا موقع ملا تاہم خلائی مخلوق سے چھیڑ چھاڑ کی بدولت دو بار پہلے ہی یہ اپنی وزارت عظمی کی سیٹ گنوابیٹھے ہیں ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوازشریف اور خلائی مخلوق کا پرانا معاشقہ ہے۔ اگرچہ تیسری بار پانامہ کیس کی بدولت سپریم کورٹ آف پاکستان نے نااہل قرار دیا ہے لیکن اس کیس کے پیچھے بھی نوازشریف کو اسی خلائی مخلوق کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ مزید یہ کہ آگے 2018ء کے عام انتخابات آرہے ہیں ۔ نوازشریف کو معلوم ہے کہ پاکستان کے عام انتخابات میں اس خلائی مخلوق کا اہم کردار ہوتا ہے لہذا ابھی سے شور مچانا شروع کردیا ہے کہ انکا مقابلہ ان عام انتخابات میں زرداری یا نیازی سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے ہوگا۔ اس شوروغوغا کی بھی کئی ایک وجوہات ہیں۔ اول، ن لیگ حکمران پارٹی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حکمران پارٹی دوبارہ انتخاب جیت کر اقتدار میں آجائے لہذا نوازشریف کو اپنی ہارصاف نظر آرہی ہے۔ دوم، حکمران پارٹی کے دو لیڈروں نوازشریف اور خواجہ آصف کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے تاحیات نااہل قرار دیا ہے۔جس سے حکمران پارٹی کو کافی دھچکا لگا ہے اور ن لیگ کی ساکھ کو کافی حد تک نقصان پہنچا ہے۔ سوم، خادم اعلی پنجاب شہباز شریف کو ن لیگ کا صدر منتخب کرلیا گیا ہے مگر ان کی جان بھی نیب اور ماڈل ٹاؤن سانحہ کے شکنجے میں کسی بھی وقت جکڑی جا سکتی ہے۔ لہذا اگر ن لیگ اگلے الیکشن میں اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوبھی جاتی ہے تو پھر بھی خطرہ ہر وقت سروں پر منڈلاتا رہے گا۔ چہارم، نوازشریف کی نااہلیت کے بعد ن لیگ میں دراڑیں پڑچکی ہیں۔ن لیگ کی بجائے اب ش لیگ کی افواہیں بھی گردش میں ہیں۔ تاہم نوازشریف کی خواہش ہے کہ اگر وہ خود چوتھی بار وزیراعظم نہیں بن سکتے تو شہباز شریفک کی بجائے انکی بیٹی مریم کو وزیراعظم بنوایا جائے۔ لیکن مریم نواز کو بھی نوازشریف کیطرح احتساب عدالتوں میں کئی کیسز کا سامنا ہے۔ جسطرح چاروں طرف سے محصور بلی شیر کے منہ پر جھپٹی ہے کچھ ایسی ہی صورتحال نوازشریف کو درپیش ہے۔ نوازشریف جو کبھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا خوش قسمت ترین لیڈر تھا اب بدقسمت ترین لیڈر ہے۔ بظاہر نوازشریف اور اسکے خاندان کے لئے پاکستانی سیاست میں تمام رستے بند ہوچکے ہیں۔ اسی لئے نوازشریف ہاتھ پاؤں مار رہا ہے کہ کسی صورت اسکی پاکستانی سیاست میں واپسی ہوجائے۔ اسکے ماضی کے تجربات اس بات کے گواہ ہیں کہ صرف خلائی مخلوق ہی اسے سیاست میں واپسی کا راستہ دے سکتی ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک مجبوری آڑے آرہی ہے کہ کھلم کھلا خلائی مخلوق سے مدد کی اپیل نہیں کی جاسکتی کیونکہ جمہوریت میں خلائی مخلوق سے مدد کی اپیل سزائے موت کے مترادف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اندر کھاتے خلائی مخلوق سے رابطے ہورہے ہیں مگر عوام کو دکھانے کے لئے خلائی مخلوق کو للکارا جا رہاہے۔ اب یہ تو تاریخ ہی بتائے گی کہ خلائی مخلوق ایک بار پھر جیت جائے گی یا جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا۔