Saturday, January 19, 2019

کیا تحریک انصاف کی حکومت گرِ سکتی ہے؟

کیا تحریک انصاف کی حکومت گرِ سکتی ہے؟
تین بار وزیراعظم منتخب ہونے والے واحد سیاسی لیڈر میاں نوازشریف جیل میں ہیں اور تاحیات نااہل ہوچکے ہیں۔ ن لیگ کے صدر شہباز شریف عرف خادم اعلیٰ نیب کے ریڈار پر ہیں جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ پرہیں اور شنید ہے کہ جلد ہی گرفتار کرلئے جائیں گے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات کا سامنا ہے۔ یہ وہ مقدمات ہیں جو دونوں سیاسی پارٹیوں کے سربراہان نے اپنے اپنے ادوار میں ایک دوسرے کے خلاف درج کروائے۔ لیکن ان مقدمات کا فائدہ نئی حکومت یعنی تحریک انصاف کو ہورہا ہے کیونکہ اپوزیشن رہنماؤں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کے لئے انہیں کوئی زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی۔ اگرچہ شریف اور زرداری خاندان کے خلاف زیادہ تر مقدمات کی پیروی نیب اور ایف آئی اے کررہی ہے لیکن اسکا کریڈٹ حکومت لے رہی ہے۔ 
چونکہ عمران خان وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سے اب تک ایک ہی راگ الاپتے آرہے ہیں کہ میں چوروں اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا اوران سب کو جیلوں میں ڈالوں گا۔ اس لئے ان اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کوئی حکم خواہ سپریم کورٹ جاری کرے یا نیب اور ایف آئی اے کوئی ایکشن لے ، اپوزیشن یہی سمجھ رہی ہے کہ یہ سب حکومتی ایما پر کیا جارہا ہے۔ اس وقت جو ملکی سیاسی ماحول اتنا گرم ہوچکا ہے اسکی زیادہ تر ذمہ داری حکومتی وزراء اور خود وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے۔ کسی بھی نئی نویلی حکومت کو اقتدار میں آنے کے فوری بعد ملکی سیاسی حالات میں ٹھہراؤ لانا ضروری ہوتا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا ہوں مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے آتے ہی اپنے خلاف کئی محاظ کھول لئے ہیں۔ 
کرپشن کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ سے حکومت نے نہ صرف سیاستدانوں کو الرٹ کردیا ہے بلکہ بیوروکریٹس کوبھی چوکنا کردیا ۔ وہ بیوروکریٹس جو کبھی بلا جھجک بڑے بڑے کام کرجاتے تھے اب جیل جانے کے ڈر سے کسی بھی کام کو کرنے سے کترارہے ہیں اور دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ لہذا حکومت سٹینڈ بائی موڈ پر کھڑی نظر آرہی ہے۔ وزراء کی صرف زبانیں ہل رہی ہیں لیکن عملی طور پر کوئی کام ہوتا نظر نہیں آرہا۔ جبکہ دوسری طرف مہنگائی ہے کہ بڑھتی جارہی ہے جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے۔ 
حکومتی خزانہ چونکہ خالی ہے اور وزیراعظم سابقہ وزراء کی طرح ذاتی تشہیر کے عادی نہیں لہذا حکومتی اشتہاروں کی بندش ہے جس سے میڈیا کی نشوونما رک گئی ہے اور زیادہ تر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیاکے اداروں کو جان کے لالے پڑگئے ہیں۔ پیٹ خالی ہو تو کوئی سب اچھا ہے کی گردان نہیں گاتا۔ لہذا میڈیا بھی اب نئی حکومت پر زور شور سے چڑھ دوڑاہے اور ہر چھوٹی بڑی خامی کو بے نقاب کررہا ہے۔ 
اب صورتحال یہ ہے کہ ماسوائے فوج اور عدلیہ کے ملک کے اندر کوئی تیسری قوت تحریک انصاف کی حکومت کو سپورٹ نہیں کررہی ۔ اس پر مستزاد یہ کہ حکومتی وزراء کی زبانیں ایسی آگ پھینک رہی ہیں کہ جلتی پر تیل کا کام کررہی ہیں۔ حال ہی میں وزیراطلاعات نے ایسی بیان بازی کی ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کے بیٹے مونس الہی نے حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ بلوچستان میں باپ (بلوچستان عوامی پارٹی ) کے سربراہ اختر مینگل نہ صرف حکومت سے ناراض ہیں بلکہ منگل کے روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے چیمبر میں ہونے والی اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں بھی شرکت کی ہے۔ یہ واحد سیاسی لیڈر ہیں جو حکومتی اتحادی ہونے کے باوجود اپوزیشن کے اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔ آصف زرداری اور شہباز شریف گلے مل چکے ہیں اور نئے میثاقِ جمہوریت کے عہدوپیمان بھی کرچکے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن پھر سے ایکٹو ہوچکے ہیں۔ 
15جنوری کو ہونے والی اپوزیشن رہنماؤں کی اس میٹنگ کی پسِ پردہ حقیقت یہ کہ حکومت پر دباؤ ڈالا جائے اور ایک نیا این آر اولیا جائے بصورت دیگر حکومت گرانے کی کوششیں کی جائیں۔ سب سے پہلی کوشش جو کی جائے گی وہ سینٹ چیئرمین کی تبدیلی ہے جہاں اپوزیشن کو حکومت پر برتری حاصل ہے۔ اسکا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ چونکہ سینٹ کا چیئرمین اپوزیشن کا ہوگا لہذا حکومت کو قانون سازی میں دشواری پیش آئے گی اوراسے سینٹ سے بل پاس کروانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اپوزیشن دوسرا قدم جو اٹھائے گی وہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے لئے اسکے اتحادیوں کو توڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سلسلے میں اپوزیشن پہلی سیڑھی چڑھتی نظر آرہی ہے وہ یہ کہ حکومتی اتحادی باپ کے رہنما اپوزیشن کی صفوں میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ ایسے ہی دوسری حکومتی اتحادی پارٹیوں کو توڑنے کی کوششیں کی جائیں گی لیکن اپوزیشن کو اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ اسکی وجہ یہ ہے حکومتی اتحادی جماعتوں کے سربراہان کو بخوبی علم ہے کہ اس وقت انکو جو حکومتی وزارتیں ملی ہوئی ہیں اگر وہ اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں تو ایسی اہم وزارتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں میں اہم عہدے مانگنے والے لوگ بہت زیادہ ہونگے جبکہ وزارتیں کم ہونگی۔ لہذا حکومتی اتحادی ہاتھ والی ایک کو چھوڑ کر جھاڑی والی دو کے پیچھے نہیں بھاگیں گے۔ 
علاوہ ازیں، تحریک انصاف کی حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جتنی انڈرسٹینڈنگ اس وقت ہے پاکستان کی تاریخ میں ایسا موقع پہلے کبھی نہیں آیا۔لہذا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کبھی نہیں چاہے گی کہ تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہو۔ مزید یہ کہ حکومت اور فوج ایک پیچ پر ہیں اور طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہورہے ہیں لہذا انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ بھی اس حق میں نہیں ہوگی کہ تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہو۔چین ، سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دوروں کے دوران وزیراعظم کی آؤبھگت ظاہر کرتی ہے کہ یہ ممالک بھی عمران خان کی حکومت کو گرانے والے اقدام کی مخالفت کریں گے لہذا یہ بالکل واضح ہے کہ اس وقت تحریکِ انصاف کی حکومت کو گرایا نہیں جاسکتا۔ 

لاہور کی آلودگی اور تدارک

لاہور کی آلودگی اور تدارک

جس طرح مغل بادشاہوں کو عالی شان عمارتوں کی تعمیر کا یارہ تھا، شریف فیملی بالخصوص خادمِ اعلی کے سر پر میٹرو اور اورنج ٹرین کے ساتھ ساتھ لاہور شہر میں جگہ جگہ فلائی اوور اور انڈرپاسز بنوانے کا جنون سوار تھا۔نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج لاہورکا شمار دنیا بھر کے دس آلودہ ترین شہروں میں ہونے لگا ہے۔ بے جا درختوں کو کاٹ کر سڑکیں اور پل تعمیر کیے گئے اور ظلم در ظلم یہ کہ اکثر ایک ہی سڑک کو باربار تعمیر کروایا گیا۔سب سے بڑی زیادتی جو خادمِ اعلی نے لاہوریوں کے ساتھ کی وہ میٹرو بس اور اورنج ٹرین منصوبے ہیں۔ ا ن منصوبوں نے لاہور کو نہ صرف دو حصوں میں تقیسم کردیا ہے بلکہ کنکریٹ کی ایسی دیواریں کھڑی کردی ہیں کہ ان سے سر پھوڑنے کو جی چاہتا ہے۔ پہلے شاہدرہ سے گجومتہ تک ستائیس کلومیٹر لمبے ٹریک کو مکمل کرنے کے لئے کئی سال تک لاہور یوں کو زبردستی دھول اور مٹی کھلائی گئی اور جب یہ پراجیکٹ مکمل ہوا تو خادم اعلی کے عالی شان دماغ نے لاہوریوں کے لئے مزید دھول اور مٹی کا سامان اورنج ٹرین پراجیکٹ شروع کرکے مہیا کردیا۔ یہ پراجیکٹ 2015ء میں شروع ہوا لیکن ن لیگ کا دور حکومت ختم ہونے کے باوجود ابھی بھی نامکمل ہے اور نئی حکومت بھی اس پراجیکٹ کے حق میں نہ ہے تو فی الحال یہ پراجیکٹ مکمل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ان دونوں بڑے منصوبوں کا برا اثر یہ پڑا ہے کہ جہاں جہاں پر اس منصوبے کا وجود ہے وہاں پر اکثر ٹریفک کا رش نظر آتاہے۔ کیا عالی دماغ پائے ہیں ہمارے منصوبہ سازوں نے کہ اپنے کمیشن کی خاطر ایسی روڈ انجینرنگ کی ہے کہ لاہوریوں کو دوہرے مصائب کا سامنا ہے۔ ایک تو ٹریفک جام اور دوسرا ٹریفک جام ہونے کی صورت میں گاڑیوں سے بے پناہ دھوئیں کا اخراج جس سے لوگوں کے نہ صرف نظام تنفس تباہ ہورہے بلکہ نت نئی بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ کجا یہ کہ خادم اعلی لاہورکو درختوں اور پھولوں کا شہر بناتے انہوں نے اسے کنکریٹ کے قبرستان میں بدل دیا ۔ لیکن ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ نئی حکومت کو چاہیے کہ لاہور میں میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں جیسے کسی اور پروجیکٹ پر مکمل پابندی عائد کردی جائے۔ لاہور سے باہر جانب رائے ونڈ وسیع علاقہ دستیاب ہے وہاں اسلام آباد جیسا ایک منی لاہور بسانے کا منصوبہ تشکیل دیا جائے لیکن اسے بسانے سے قبل مکمل منصوبہ بندی کی جائے۔ مثلاََ لاہور شہر کے اہم سرکاری ادارہ جات مثلاََ سول سکریٹریٹ، اہم عدالتیں اور بڑی سبزی منڈیوں کو منی لاہور میں منتقل کردیا جائے تاکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے اور لاہوریوں کو دھویں کی بیماریوں سے نجات ملے۔ دوم، منی لاہور میں درختوں کی بہتات ہو، سوم، روڈ انجینرنگ بہترین ہو ، سڑکیں کشادہ اور سروس روڈ ز دستیاب ہوں۔ چہارم ، ایک مارکیٹ سے دوسری مارکیٹ کا مناسب فاصلہ ہو۔پنجم، منی لاہور میں چنگ چی اور ٹوسڑوک رکشوں پر مکمل پابندی ہو۔ششم ، نئے منی لاہور اور ترجیحاََ پنجاب کے باقی بڑے شہروں میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ پنجاب بھر سے لاہور منتقل ہونے والے بے روزگار خاندانوں کی آمد کا سلسلہ تھم سکے جس سے لاہور کی آبادی کو نہ صرف کنٹرول کیا جاسکے گا بلکہ لاہور میں پہلے سے بسنے والے لوگوں کو صحت و تعلیم کی بہترین سہولتیں مہیا کرنے میں آسانی ہوگی۔اسی طرح اور بھی بہت سے طریقے ہیں جس سے لاہور شہر کی آلودگی کو کم کرنے میں آسانی ہوگی لیکن ان سب کاموں کے لئے نیت کا ٹھیک ہونا شرط ہے ۔ 

Sunday, January 6, 2019

U Turn about Basant

کیا بسنت کے معاملے میں بھی یوٹرن لینا پڑے گا ؟

حکومت پنجاب نے فروری کے دوسرے ہفتے میں بسنت منانے کا اعلان کرکے ایک اور مصیبت اپنے سر ڈال لی ہے۔ پچھلے بارہ سالوں سے عائد اس پابندی کو انتہائی عجلت میں اٹھائے جانے کو بعض حلقے احمقانہ فعل گردان رہے ہیں۔آئیے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ لاہوریے اس بار بسنت منا پائیں گے یا حکومت پنجاب کو ایک اور یوٹرن لینا پڑے گا۔

تاریخ پر نظر ڈالیں تو بسنت کے تہوار کا باقاعدہ آغازہندو راجہ رنجیت سنگھ کے دور سے ہوا۔پتنگ اُڑانا اس تہوار کا سب سے اہم جزو ٹھہرایا گیا۔ امرتسر ، لاہور اور قصور اس تہوار کے روایتی علاقے گردانے جاتے ہیں تاہم لاہور کو اس سلسلہ میں مرکزی حثیت حاصل ہے۔ یہ تہوارجنوری کے اختتام یا فروری کے آغاز پر منایا جاتا ہے۔ اس تہوارمیں لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر پتنگ بازی کرتے اور ایک دوسرے سے پیچ لڑاتے ہیں۔ دعوتیں ہوتی ہیں، ڈھول بجتے ہیں، گھروں کی چھتوں پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر ناچ گانوں سے بھی دل بہلائے جاتے ہیں۔ ایک دہائی قبل تک یہ تہوار لاہور میں اتنا مقبول تھا کہ نہ صرف پاکستان کے ہر حصے سے لوگ لاہور آتے بلکہ بیرون ملک سے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس تہوار میں شرکت کیلئے لاہور تشریف لاتے تھے۔
لیکن پھر ناجانے کس کی نظر لگ گئی کہ لوگوں کے چہروں پر خوشیاں لانے والا یہ تہوار دیکھتے ہی دیکھتے خونی کھیل میں بدل گیا۔جوکھیل دلوں کو جوڑتا تھا ، مختلف گھروں میں صف ماتم بچھانے لگ پڑا۔ کہتے ہیں لالچ انسان کو اندھا کردیتاہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے پتنگ باز بہتر سے بہترین دھاتی ڈور کی فرمائش کرنے لگے۔ دھاتی ڈور بنانے والوں کو جب منہ مانگی قمیت ملی تو انہوں نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر کانچ کا شیشہ اور خطرناک کیمیکل لگی ڈور بنا کر دینی شروع کردی۔ جس سے پتنگ بازوں کو تو فائدہ ہوا کہ انکے مخالفین کی ڈور ایک جھٹکے میں کٹ جانے لگی مگر اسکا نقصان یہ ہوا کہ کیمیکل لگی ڈور جسکی گردن پر پھر جاتی وہ موت کی آغوش میں چلا جاتا یا ہسپتال پہنچ جاتا۔ جب اس دھاتی ڈور کی مانگ اور استعمال بڑھا تو اموات بھی زیادہ ہونا شروع ہوگئیں ۔لہذا ردعمل میں معاشرتی آوازوں نے زور پکڑا تو حکومت کو چاروناچار بسنت کے تہوار پر پابندی عائد کرنا پڑی۔
مسلم لیگ ن کے سابقہ دونوں ادوار میں اس تہوار پر پابندی برقرار رہی ۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی اس تہوار کے منانے کا اعلان کر دیا ہے یہ دیکھے بغیر کہ اس تہوار سے پابند ی اٹھانا ممکن ہے بھی یا نہیں۔ انتہائی عجلت میں کیا گیا یہ فیصلہ یقیناًتحریک انصاف کی حکومت کو واپس لینا پڑے گا ۔ اسکی کئی وجوہات ہیں۔ اول، راہگیروں، سائیکل سواروں اور موٹرسائیکل سواروں کے گردنوں پر قاتل ڈور پھرنے سے بے گناہ شہریوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔ دوم، قاتل ڈور پر پابندی لگانا ممکن نہیں۔ کیونکہ اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو جب منہ مانگی قیمت ملتی ہے تو وہ ہرطرح کی ڈور تیار کرنے لگتے ہیں جبکہ دوسری طرف پنجاب پولیس کے پاس ایسا کوئی نظا م نہیں کہ قاتل دھاتی ڈور بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرسکے۔ بالفرض اگر پنجاب پولیس لاہور میں قاتل ڈور بنانے والوں کو قابو کر لیتی تو منافع خور اس قاتل ڈور کی تیاری لاہو رسے باہر شروع کر دیں گے۔ جسے قابو میں لانا پنجاب پولیس کے بس میں نہ ہوگا۔ سوم، بسنت کے تہوار میں پتنگیں اڑاتے ہوئے اور کٹی پتنگوں کو پکڑتے ہوئے اکثر بچے گھروں کی چھتوں سے گر کر جاں بحق ہوجاتے ہیں یا پتنگوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے کسی گاڑی سے ٹکرا کر اپنے خالق حقیقی سے جاملتے ہیں۔ ایسے واقعات بھی لوگوں کو بسنت کے خلاف آواز اٹھانے پر اکساتے ہیں۔ چہارم، پتنگ بازی کے دوران اکثر لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر ہوائی فائرنگ کرتے ہیں جس سے کئی لوگ اندھی گولیاں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پنجم، لاہور شہر میں اس وقت لیسکو کے دو سو سے زائد گرڈ اسٹیشنز اور پندرہ سو سے زائد فیڈرز ہیں۔ دھاتی ڈور کی بدولت ان فیڈرز سے بجلی کی باربار ٹرپنگ ہوگی جس سے بجلی کی ترسیل کا نظام انتہائی متاثر ہوگا اورنہ صرف لیسکو کو لاکھوں کا نقصان ہوگا بلکہ کاروباری حضرات کو بھی کروڑوں کے ریونیو لاسسز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ششم۔ بجلی کی بار بار ٹرپنگ سے عام شہریوں کی الیکٹرانک اشیاء بھی جل جائیں گی۔ ہفتم، شرعی اعتبار سے بھی بسنت کا تہوار کوئی اسلامی تہوار نہیں لہذا اس تہوا ر کے دوبارہ آغاز سے ہماری مذہبی و سیاسی جماعتوں کو حکومت کے خلاف تنقید کے نشتر چلانے کا موقع ملے گا۔
درج بالا سطور سے عیاں ہے کہ بسنت کے تہوار پر عائد پابند ی اٹھانا کسی طور بھی دانشمندانہ اقدام نہیں۔ ماضی میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے بھی کئی بار یہ پابندی اٹھانے کا عندیہ دیا لیکن عوام الناس کے جانی و مالی نقصان کی بدولت انہیں یہ فیصلے واپس لینے پڑے۔ حالانکہ ماضی میں درج بالا نقصانا ت سے بچاؤ کی کئی تدبیریں بھی کئی گئیں مثلا لیسکو کی تنصیبات کو دھاتی ڈور کے ٹکراؤ سے بچانے کے لئے گرڈ اسٹیشنوں پر جال بھی لگوائے گئے مگر اسکے باوجود بھی حکومت کو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کوئی خطر خواہ کامیابی نہیں ملی ۔ لہذا چاروناچار سابقہ صوبائی حکومتوں کو اس تہوار پر پابندی برقرار رکھنی پڑی۔
اگرچہ پچھلے بارہ سالوں سے اس تہوار پر پابندی عائد ہے لیکن اسکے باجود بھی رواں سال دو افراد جاں بحق اور انیس افراد زخمی ہوئے۔ پتنگ بازی ایکٹ کے تحت رواں سال دو ہزار پانچ سو افراد کے خلاف مقدمات کا اندارج ہوا جبکہ تقریبا چھبیس سو افراد ایسے تھے جو پتنگ اڑانے اور اسکا سامان بیچنے کے جرم میں گرفتار ہوئے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو خادم اعلی کی حکومت نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے اٹھائے۔پچھلے دس سال جو حکومت پنجاب میں براجمان رہی وہ اس تہوار پر عائد پابند ی نہیں اٹھا پائی تو تحریک انصاف کی نومولود اور ناتجربہ کار حکومت اس پابندی کو کیسے ہٹاپائے گی۔ نہ صرف اپوزیشن جماعتیں اس تہوار سے پابندی ہٹانے کی مخالفت کررہی ہیں بلکہ بعض حلقوں نے توحکومت پنجاب کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر لیا ہے۔ مزید یہ کہ پنجاب کی بیوروکریسی بھی اس کے خلاف آواز بلند کررہی ہے۔سب سے زیادہ پنجاب پولیس اس پابندی کو ہٹانے کی مخالفت کرے گی کیونکہ پابندی ہٹائے جانیکی صورت میں جب اموات واقع ہونگی تو سب سے زیادہ انگلیاں پنجاب پولیس کی نااہلی پر ہی اٹھیں گی ۔ پنجاب پولیس اس پابندی کو ہٹانے کی حمایت کرکے اپنے پاؤ ں پر کلہاڑی مارنے کی حماقت ہرگز نہیں کرے گی۔
ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت پنجاب نے انتہائی عجلت میں بسنت کا تہوار منانے کا اعلان کرکے انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام اٹھایا ہے۔ اور اگر یہ اعلان نہیں ہے بلکہ صرف کمیٹی کی تشکیل ہے تو اتنا واویلا کرنا بھی انتہائی حماقت ہے۔ یہ اعلان کمیٹی کی سفارشات آنے کے بعد بھی کیا جاسکتا تھا۔ خیرجو بھی ، تحریک انصاف کی حکومت کو بسنت کے معاملے میں بھی یوٹرن لینا پڑے گا۔